Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
131 - 603
تکلیف پہنچاتے تھے۔ میں نے اپنی چادر دیتے ہوئے عرض کی: ’’اسے باندھ لیجئے گا۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’ایسا نہ کیجئے کیونکہ جب وہ مجھے اس چادر میں دیکھیں گے تو مزید اذیت پہنچائیں گے۔‘‘ میرے اصرار کرنے پر انہوں نے چادر باندھ لی۔ جب اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے تو وہ کہنے لگے کہ ’’کیا خیال ہے: انہوں نے یہ چادر کسے دھوکا دے کر لی ہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی واپس آگئے اور چادر اتار کر مجھ سے فرمایا: ’’تم نے دیکھ لیا(کہ انہوں نے کیا کہا)۔‘‘
	چنانچہ، میں لوگوں کے پاس گیا اور کہا: تم ان سے کیا چاہتے ہو؟ انہیں کیوںتکلیف پہنچاتے ہو؟ کبھی کسی کے پاس کپڑے ہوتے ہیں، کبھی نہیں ہوتے جب ہوتے ہیں تو وہ پہن لیتا ہے۔ لہٰذا زبانی کلامی میں نے ان کی خوب خبر لی۔ اتفاق سے اہل کوفہ کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گیا ان کے ساتھ وہ شخص بھی تھا جو حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’کیا تم میں قرن کا رہنے والا کوئی ہے؟‘‘ اس شخص نے عرض کی: ’’میں قرن کا رہنے والا ہوں۔‘‘ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’یمن سے ایک اویس نامی شخص تمہارے پاس آئے گا۔ اس کے پیچھے یمن میں صرف اس کی ماں ہوگی۔ اس کے جسم پر برص کا داغ ہے وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کرے گاتو داغ ختم ہوجائے گا مگر ایک دینار یا درہم کے برابر باقی رہ جائے گا تم میں سے جو بھی اس سے ملے اپنے لئے مغفرت کی دعا کروائے۔‘‘ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: وہ ہمارے پاس آئے تھے میں نے ان سے پوچھا: ’’کہاں سے آئے ہو؟‘‘ کہا: ’’یمن سے۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘کہا: ’’اویس۔‘‘ پوچھا: ’’یمن میں کسے چھوڑ کرآئے ہو؟‘‘ جواب دیا: ’’اپنی والدہ کو۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا تمہارے جسم پر برص کا داغ ہے جسے تمہاری دعا کے سبب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ختم فرما دیا؟‘‘ عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ میں نے کہا: ’’میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے!‘‘ عرض کی: ’’اے امیرالمؤمنین! کیا میرے جیسا شخص آپ کے لئے استغفار کرے گا؟‘‘ چنانچہ، (اصرار پر)انہوں نے میرے لئے دعائے مغفرت کی۔ میں نے ان سے کہا: ’’تم میرے بھائی ہو، لہٰذا مجھ سے جدائی اختیار نہ کرنا لیکن وہ چلے گئے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ کوفہ میں ہیں۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کا مذاق اڑانے والا شخص انہیں حقیر سمجھتے ہوئے کہنے لگا کہ ’’وہ ہمارے ہاں