جواب دینے سے احتراز فرمایا۔‘‘ (۱)
(1564)…ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’سب سے بہترین لوگ کون ہیں؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر دوسرے زمانے کے پھر تیسرے زمانے کے۔‘‘ (۲)
تابعین کا پہلاطبقہ
حضرت سیِّدُنا اُوَیس بن عامر قَرَنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَنِی
عبادت گزاروں کے سردار، اولیائے عظام کی نشانی حضرت سیِّدُنا اویس بن عامر قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی وہ ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خوشخبری دی اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو ان سے ملاقات کرنے کی وصیت فرمائی۔
(66-1565)…حضرت سیِّدُنا اُسَیر بن جابر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر فرماتے ہیں کہ کوفہ میں ایک محدّ ِث ہمیں حدیث سنایا کرتے تھے۔ ایک دن جب درسِ حدیث سے فارغ ہوئے تو اپنے شاگردوں سے فرمایا: ’’چلے جاؤ۔‘‘ لیکن چند لوگ ٹھہرے رہے ان میں ایک شخص اس طرح گفتگو کر رہا تھا کہ میں نے کبھی بھی کسی کو اس جیسی گفتگو کرتے نہیں سنا مجھے بڑا تعجب ہوا (چند روز اس کے غائب رہنے پر)میں نے اسے تلاش کیا نہ پایا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ’’کیا تم فلاں شخص کو جانتے ہو جو فلاں فلاں درس میں ہمارے ساتھ تھا؟‘‘ ایک نے کہا: ’’میں اسے جانتا ہوں۔ وہ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی تھے۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا تمہیں اس کے گھر کا پتا معلوم ہے؟‘‘ کہا: ’’ہاں!‘‘ چنانچہ، میں اس کے ساتھ چل دیا حتی کہ ان کے گھر پہنچ کر دروازے پردستک دی تو وہ باہر تشریف لائے۔ میں نے عرض کی: ’’اے میرے بھائی! کس چیز نے آپ کو ہمارے پاس آنے سے روک رکھا ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’بے لباسی نے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی (کی غربت وتنگدستی کے سبب ان) کے ساتھی ان کا مذاق اڑاتے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسندابی ھریرۃ، الحدیث:۷۹۶۲، ج۳، ص۱۵۵۔
2…صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضل الصحابۃ…الخ، الحدیث:۲۵۳۶، ص۱۳۷۳۔