(1561)…حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارمدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’بہترین لوگ میرے ہم زمانہ ہیں، پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے۔‘‘ (۱)
(1562)…حضرت سیِّدُنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔‘‘ (۲)
(1563)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’سب سے افضل لوگ کون ہیں؟‘‘ ارشادفرمایا: ’’سب سے افضل میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ عرض کی گئی: ’’پھر کون افضل ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’پھر وہ لوگ افضل ہیں جو ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔‘‘ عرض کی گئی: ’’پھر کون؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’پھر وہ جو ان کی پیروی کریں گے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: ’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چوتھی مرتبہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کہ جو حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حیات ظاہری شریف میں زندہ تھا وہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کاہم زمانہ ہے۔ (ازمرقات ، اشعہ مع زیادت) خیال ر ہے کہ زمانہ نبی اور ہے زمانہ نبوت کچھ اور۔ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا زمانہ نبوت تا قیامت ابدالآباد تک ہے، جس زمانہ میں لوگ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دیکھ کر صحابی بنتے تھے وہ زمانہ محدود ہے ورنہ آج بھی زمانہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا ہے اور ہمیشہ زمانہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا ہی رہے گا۔ لطیفہ: ایک صاحب نے بدعت کی تعریف کی کہ بدعت وہ ہے کہ جو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زمانہ کے بعد ایجاد ہو تو ایک عاشق دل شاد نے کہا کہ آج کس کا زمانہ ہے، آج بھی انہیں کا رواج انہیں کا زمانہ ہے ہم آج کلمہ پڑھتے ہیں محمد رسول ،اللّٰہ کے رسول ہیں اگر یہ زمانہ ان کا نہیں تو ’’ہیں‘‘ کسے کہہ رہے ہوجو ہمارے رسول بھی زندہ ہیں ان کی رسالت بھی قائم ودائم ہے ۔ ’’پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے‘‘کے تحت فرماتے ہیں: تابعین اور تبع تابعین، خیال رہے کہ صحابی وہ مومن انسان ہیں جنہوں نے حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو ایک نگاہ دیکھا یا ایک آن کے لیے صحبت پائی مگر تابعی وہ لوگ جنہوں نے صحابی کی مستقل صحبت پائی ہو ایسے ہی تبع تابعین وہ جنہوں نے تابعی کی صحبت پائی ان کا فیض حاصل کیا ہو لہٰذا امام ابوحنیفہ تابعی ہیں مگر یزید تابعی نہیں کہ اگرچہ وہ صحابی کا بیٹا ہے مگر فیض صحابہ حاصل نہ کرسکا۔ اسی لیے یہاں (صاحب ِ)مرقات نے یَلُوْنَہُمْ کے معنی کئے: اَیْ یُقَرِّبُوْنَہُمْ فِی الْخَیْرِکَالتَّابِعِیْن جو صحابہ سے خیر میں قریب ہوں۔
1…سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی القرن الثالث، الحدیث:۲۲۲۸، ج۴، ص۹۴۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث النعمان بن بشیر، الحدیث:۱۸۴۵۵، ج۶، ص۳۹۰۔
المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث بریدۃ الاسلمی، الحدیث:۲۳۰۸۶، ج۹، ص۲۶۔