طبقۂ تابعین
حضرت سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ آیَندہ ہم طبقہ تابعین میں سے ان حضرات کا ذکرخیر کریں گے جو عابد وزاہد، قناعت پسند اور ہمہ وقت عبادت پر کمربستہ رہنے میں مشہور تھے، نیز دنیا اور اس کے دھوکے سے اعراض کرتے اور عبادات کی لذت سے راحت وسکون پاتے تھے۔ ان کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن ہم ان میں سے مشہور ومعروف حضرات کے تذکرے پر ہی اکتفا کریں گے اور اس سے پہلے ہم بہتر زمانے کی فضیلت پر روایات وآثار ذکر کریں گے۔
بہترین لوگ:
(1559)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں بہترین میرا گروہ ہے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۔‘‘ (۱)
(1560)…حضرت سیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے قرن (زمانے)والے ہیں، پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے۔‘‘ (۲) (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب فضائل اصحاب النبی، الحدیث:۳۲۵۰، ج۲، ص۵۱۵۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث النعمان بن بشیر، الحدیث:۱۸۴۷۴، ج۶، ص۳۹۳۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد5، صفحہ398 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: قرن کے لغوی معنی ہیں ملنا، اسی سے ہے اقتران زمانہ اور اہلِ زمانہ اور گروہ کو قرن اس لیے کہتے ہیں کہ ہم زمانہ اور ایک گروہ کے لوگ ملے ہوئے ہوتے ہیں اس میں گفتگو ہے کہ قرن یعنی زمانہ کس مدت کا نام ہے ، تیس سال، چالیس سال، ساٹھ سال، ستر سال، اسی سال، سو سال آخری قول زیادہ قوی ہے کیونکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک بچہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا عشی قرنا تم ایک زمانہ تک جیتے رہو تو وہ سو برس جیا (مرقات) بعض اہلُ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ حضرات خلفاء راشدین کا زمانہ حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا زمانہ ہے، ’’ق‘‘ میں صدیق کی طرف ’’ر‘‘ میں حضرت عمر کی طرف ’’ن‘‘ میں حضرت عثمان کی طرف اور ’’ی‘‘ میں حضرت علی کی طرف اشارہ ہے بعض نے فرمایا کہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے صحابہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قرن ہیں، بعض نے فرمایا…