اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا وصال فرمانے کے بعد ہم ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے؟‘‘ حضور نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’(مؤمنین کی) روحیں پرندوں کی شکل میں درختوں کے ساتھ معلق (یعنی لٹکی) رہتی ہیں اور بروزِ قیامت اپنے جسموں میں داخل ہو جائیں گیں۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا سلمہ بنتِ قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا سلمہ بنت قیس نجاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے اور دونوںبیعتوں (بیعت عقبہ ورضوان) میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔
شوہر کودھوکانہ دینا:
(1558)…خالۂ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا سلمہ بنت قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں دوقبلوں (یعنی بیت المقدس اور کعبۃ اللّٰہ المشرفہ) کی جانب رخ کرکے نماز ادا کرنے کاشرف حاصل کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا تعلق قبیلہ بنوعدی بن نجار سے تھا۔ فرماتی ہیں: میں انصاری عورتوں کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان شرائط پرہم سے بیعت لی کہ ’’ہم نہ چوری کریں گی، نہ بدکاری ، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤوں کے درمیان (یعنی موضعِ ولادت میں) اٹھائیں(۲)اور کسی اچھی بات میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید ارشاد فرمایا: ’’اور کبھی اپنے خاوندوں کے ساتھ دھوکا بھی نہ کرنا۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’ہم نے ان شرائط پر بیعت کی پھر لوٹ آ ئیں۔‘‘ میں نے ایک عورت سے کہا: ’’واپس جاؤ اور حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھوکہ شوہروں کے بارے میں ہم پر کیا چیز حرام ہے؟‘‘ اس عورت نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’چوری چھپے (یعنی بغیراجازت) شوہر کا مال کسی کو نہ دیں۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمدبن حنبل، حدیث امّ ہانی، الحدیث:۲۷۴۵۶، ج۱۰، ص۳۹۱۔
2…یعنی پرایا بچّہ لے کر شوہر کو دھوکہ دیں اور اس کے پیٹ سے جنا ہوا بتائیں۔ جیسا کہ جاہلیّت کے زمانہ میں دستور تھا۔
(خزائن العرفان، پ۲۸، الممتحنۃ، تحت الایۃ:۱۲، ص۹۹۲)
3…المسند للامام احمدبن حنبل، حدیث سلمی بنت قیس، الحدیث:۲۷۲۰۳، ج۱۰، ص۳۲۳۔