Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
126 - 603
ایک بار میں خدمت اقدس میں حاضر تھی کہ میری خالہ بارگاہِ رسالت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوئیں۔ انہوں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا یہ پسند کرتی ہوکہ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے جائیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’اے خالہ! رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے ان کنگنوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں (جو آپ نے پہنے ہوئے ہیں)۔‘‘ چنانچہ، انہوں نے وہ اتار کر پھینک دئیے اور عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر عورتیں بناؤ سنگھارنہ کریں تو شوہروں کے نزدیک ان کی کوئی قدر ومنزلت نہ رہے گی۔‘‘ حضور نبی ٔرحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’کیا عورت یہ طاقت نہیں رکھتی کہ وہ چاندی کی بالیاں اور ہار لے کراس پر زعفران کا رنگ چڑھا لے کہ وہ سونے کی طرح ہوجائیں؟ کیونکہ جس نے بھی ٹڈی کی آنکھ کے وزن کے برابر یا چھلے کے برابر سونا پہنا (اور اس کی زکوٰۃ نہ دی) تو بروزِ قیامت اسے اس سے داغا جائے گا۔‘‘  (۱)
(1556)…حضرتِ سیِّدَتُنااسماء بنت ِ یزیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے دودینار بھی ترکہ میں چھوڑے اس نے دو داغ چھوڑے(۲)۔‘‘ (۳)
حضرتِ سیِّدَتُنا ام ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُناام ہانی انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  بھی صحابیہ ہیں۔
کیا مرنے کے بعد بھی ملاقات ہوگی؟
(1557)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام ہانی انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، اسماء ابنۃ یزید، الحدیث:۲۷۶۷۳، ج۱۰، ص۴۴۳۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد7، صفحہ36 پر اس حدیث کہ ’’اہل صفہ میں سے ایک شخص نے وفات پائی تو اس نے دودینار چھوڑے تو ارشاد فرمایا کہ دو داغ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: اس شخص نے دودینار چھوڑ کر اپنے نام اہل صفہ پر دو دھبے لگائے کہ دعویٰ ہے ترک دنیا کا اور عمل یہ ہے کہ دو دینار پاس ہیں۔ خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لئے مالداری اچھی ہوتی ہے کہ اس سے وہ شاکر بن جاتے ہیں اور بعض کے لئے غریبی بہترکہ اس سے وہ صابر رہتے ہیں۔ اہل صفہ اس دوسری جماعت سے تھے لہٰذا یہ فرمان نہایت ہی موزوں ہے جیسے بعض کے لئے جلوت افضل ہے اور بعض کے لئے خلوت بہتر۔
3…المعجم الکبیر، الحدیث:۴۶۵، ج۲۴، ص۴۸۱۔