الْکَرِیْم نے حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ’’ان کے درمیان فیصلہ کرو۔‘‘ چنانچہ، انہوں حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا: ’’اے بیٹے! میں نے عربوں میں کوئی جوان ایسا نہیں دیکھا جو تمہارے والد (حضرت سیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے بہتر ہو۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا: اے بیٹے! میں نے عربوں میں کسی ایسے بوڑھے کو نہیں دیکھا جو تمہارے والد (حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے بہتر ہو۔‘‘ (اس پر) امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’تم نے ہمارے لئے کوئی فضیلت نہیں چھوڑی اگر تم اس کے علاوہ کچھ کہتیں تو میں ناپسند کرتا۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تینوں میں سے آپ سب سے بہتر ہیں۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنتِ یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت یزید بن سکن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ غرور و فتنے کا باعث بننے والی چیزوں سے دور رہتی تھیں۔
آگ کے کنگن:
(1554)…حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی (اس وقت) میں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ جب قریب پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی چمک دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’اے اسمائ! انہیں اتار کر پھینک دو! کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ (اگر تم نے ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو بروزِقیامت) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے گا۔‘‘ میں نے کنگن اتار کر پھینک دیئے اور میں نہیںجانتی کہ انہیں کس نے اٹھایا؟ (۲)
(1555)…حضرتِ سیِّدُنا شہر بن حوشب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل، فضائل قوم شتی من اہل الشام، الحدیث:۱۷۲۰، ج۲، ص۹۰۲۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، اسماء ابنۃ یزید، الحدیث:۲۷۶۳۴، ج۱۰، ص۴۳۴۔