اللّٰہعَزَّوَجَلَّ تمہاری حفاظت فرمائے !
(1552)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِلبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا حضرتِ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے نکاح کردیا تو ان کے پاس تشریف لائے۔ جب عورتوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تشریف لاتے دیکھا تو تمام عورتیں چلی گئیں اس وقت عورتوں اور آپ کے درمیان ایک پردہ حائل تھا لیکن حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نہ گئیں۔ ارشاد فرمایا: ’’تم کون ہو کہ ابھی تک یہیں ہو؟‘‘ عرض کی: ’’میںوہ ہوں جو شہزادی ٔرسول کا خیال رکھوں گی کیونکہ شب زفاف (یعنی سہاگ رات) نئی نویلی دلہن کے پاس ایک عورت کا ہونا ضروری ہے کہ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہو یا وہ کسی چیز کا ارادہ کرے تو وہ اس چیز کو مہیا کردے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دعا سے نوازا اور ارشاد فرمایا: ’’میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آگے، پیچھے، دائیں ، بائیں اور ہر جانب سے شیطان مردود سے تمہاری حفاظت فرمائے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: حضرتِ اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مجھے بتایا کہ ’’میں نے ترچھی نگاہوں سے دیکھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے جارہے تھے اور مسلسل حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور اپنی شہزادی کے لئے خصوصی دعا فرما رہے تھے یہاں تک کہ حجرہ مبارکہ میںداخل ہوگئے۔‘‘ (۱)
حکمت بھرا فیصلہ:
(1553)…حضرتِ سیِّدُنا امام شَعْبِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح کرلیا۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دونوںبیٹے حضرت سیِّدُنا محمد بن ابی بکر اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایک دوسرے پر فخر کرتے اور ہرایک، دوسرے سے کہتا: ’’میں تم سے بہتر ہوںاور میرے والد تمہارے والد سے بہترتھے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۳۶۲، ج۲۴، ص۱۳۴۔