Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
123 - 603
 ہیں؟‘‘ جواب دیا: ’’جی ہاں!‘‘ تو امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ہجرت کرنے میں ہم تم پر سبقت لے گئے اور ہم حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قرب کا تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ (یہ سن کر) حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو غصہ آگیا اور کہا: ’’ہرگز نہیں! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہتے اور حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ میں سے جنہیں کھانا میسر نہ ہوتا انہیں کھانا کھلاتے اور ان پڑھوں کو نصیحت فرماتے جبکہ ہم محض اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کی خاطر زمین حبشہ یا اس کے دور دراز علاقوں میں رہتے تھے۔ ہمیں تکلیف دی جاتی اور ڈرایا دھمکایا جاتا تھا۔ بخدا! میں اس وقت تک نہ تو کچھ کھاؤں گی اور نہ ہی پیوں گی جب تک بارگاہِ رسالت میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گفتگوعرض نہ کر دوں۔ میں ابھی (یہ تمام باتیں) بارگاہِ اقدس میں عرض کرکے پوچھوں گی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نہ تو جھوٹ بولوں گی، نہ ہیرپھیر کروں گی اور نہ ہی اس پر کوئی اضافہ کروں گی۔‘‘
	چنانچہ، جب حضور نبی ٔرحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرتِ عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس، اس طرح کہا ہے۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’پھر تم نے کیا جواب دیا؟‘‘ عرض کی: ’’میں نے یوں، یوں کہا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اسے تم سے زیادہ میرا قرب حاصل نہیںہے کیونکہ عمر اور ان کے دیگر اصحاب کے لئے ایک ہجرت کا ثواب ہے جبکہ اے اہلِ سفینہ! تمہارے لئے دو ہجرتوں کا اجر وثواب ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ’’میں نے حضرتِ ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر اصحابِ سفینہ کو دیکھا کہ وہ میرے پاس گروہوں کی صورت میں آتے اور اس حدیث کے بارے میں پوچھتے اور انہیں اس پر دنیا کی ہر چیزسے زیادہ خوشی ہوتی اور ان کے نزدیک یہ فرمان ہرچیز سے زیادہ قدر ومنزلت والا تھا۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوبردہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں: حضرتِ ابوموسیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بار بار مجھ سے یہ فرمانِ عالیشان سنتے کہ ’’تمہارے لئے دو ہجرتوں کا ثواب ہے۔ ایک ہجرت تم نے نجاشی کی طرف کی اور دوسری میری جانب۔‘‘  (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، الحدیث:۴۲۳۱-۴۲۳۰، ج۳، ص۸۸۔۸۹۔
	دلائل النبوۃ للبیھقی، باب قدوم جعفر بن ابی طالب…الخ، ج۴، ص۲۴۴۔