Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
122 - 603
(وہاں سے چل پڑی اور) جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو اس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وضو فرما رہے تھے۔ میں نے روتے ہوئے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے بھائی اسحاق کو قتل کر دیا گیا ہے۔‘‘ آپ نے میری جانب دیکھا اس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وضو کے لئے جھکے ہوئے تھے۔ چلو میں پانی لیا اور میرے منہ پر چھینٹے مارے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا ام حکیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا فرماتی ہیں: ’’حضرت سیِّدَتُنا ام اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بہت بڑا صدمہ پہنچا تھا ان کی آنکھوں میں آنسو نظر تو آتے تھے مگر بہتے نہ تھے۔‘‘  (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنتِ عُمَیْس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت عُمَیس خَثْعَمِیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ان خوش نصیب صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا اور حبشہ کی جانب ہجرت کی اور دو قبلوں (یعنی بیت المقدس اور کعبۃ اللّٰہ المشرفہ) کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا فرمائیں۔ بحریہ حبشیہ کے لقب سے مشہور، اعلیٰ نسب خاندان کی پروَرْدَہ، محبت والفت کرنے والوں کی بیٹی اور حضرتِ سیِّدُنا جعفر طیار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد اَفضل الُبَشَر بعدالانبیا امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجیت کا شرف حاصل کیا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حیات ہی میں جانشین رسول امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا۔
دو ہجرتوں کا ثواب:
(51-1550)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم (حبشہ) سے بارگاہِ رسالت میں فتح خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (مال غنیمت میں سے) ہمیں بھی حصہ عطا فرمایا (یا کہا:) اس میں سے کچھ عطا فرمایا جبکہ اصحابِ سفینہ یعنی ہم، حضرتِ سیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کے دیگر اصحاب کے علاوہ غزوۂ خیبر میں شرکت نہ کرنے والوں میں سے کسی کو کچھ بھی نہ دیا۔ (اہلِ مدینہ میں سے) کچھ لوگ ہم سے کہا کرتے کہ ’’ہجرت کرنے میں ہم تم پر سبقت لے گئے۔‘‘جب حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت عمیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاتشریف لائیں تو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کیا یہی حبشیہ، بحریہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ، الرقم:۷۳۵۵، امّ اسحاق، ج۷، ص۳۲۲۔