Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
121 - 603
حضرتِ سیِّدَتُنا ام فروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا ام فروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ عبادت وریاضت میں خوب جدوجہد کرتی تھیں۔
افضل عمل:
(48-1547)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام فروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک بار حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اوّل وقت میں نماز ادا کرنا۔‘‘  (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا ام اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا ام اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَھُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی جانب ہجرت کا شرف حاصل کیا۔ آپ (اپنے بھائی کے گم ہونے کی وجہ سے) تنہائی وفراق کے غم میں مبتلارہتی تھیں۔
ام اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بارگاہِ رسالت میں:
(1549)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام حکیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بیان کرتی ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدَتُنا ام اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنے بھائی کے ہمراہ بارگاہِ رسالت میں حاضری کے لئے مدینہ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی جانب ہجرت کی ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ بھائی نے مجھ سے کہا: ’’تم یہاں ٹھہرو میں مکہ میں اپنا کچھ سامان بھول آیا ہوں (اسے لے آؤں)۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے اپنے فاسق شوہر کا ڈر ہے (کہ کہیں وہ آپ کو شہید نہ کر دے)۔‘‘ بھائی نے کہا: اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ عَزَّوَجَلَّ! ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ فرماتی ہیں: میں کچھ دن بھائی کا انتظار کرتی رہی، اسی دوران میرے پاس سے ایک شخص گزرا جسے میں پہچانتی تھی لیکن اس کا نام نہیں جانتی تھی۔ اس نے پوچھا: ’’اے ام اسحاق! یہاں کیوں ٹھہری ہوئی ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’اسحاق کا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘ وہ مکہ سے اپنا سامان لینے گیا ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’اسحاق اب لوٹ کر نہیں آئے گا کیونکہ تیرے فاسق شوہر نے اسے قتل کر دیا ہے۔‘‘ چنانچہ، میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی الوقت الاول…الخ، الحدیث:۱۷۰، ج۱، ص۲۱۶۔