Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
120 - 603
 ’’اگر تم صبر کرو تو تمہارے لئے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں تمہارے لئے صحت یابی کی دعا کر دیتا ہوں۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’میں صبر کروں گی۔ لیکن ستر نہ کھلنے کی دعا فرما دیجئے۔‘‘ چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دعا فرمائی۔  (۱)
اُمِّ بُجَیْد حضرتِ سیِّدَتُنا حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	ام بجید حضرتِ سیِّدَتُنا حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا شمار بھی ان صحابیات میں ہوتا ہے جو راہِ خدا میں کثرت سے صدقہ وخیرات کیا کرتی تھیں۔
سائل کوخالی ہاتھ نہ لوٹاؤ!
(1545)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام بُجَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض اوقات کوئی مسکین میرے دروازے پر آجاتا ہے تو مجھے حیا آتی ہے کیونکہ اسے دینے کے لئے میرے پاس کوئی قابل قدر چیز نہیں ہوتی۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اسے کچھ نہ کچھ دے دیا کرو اگرچہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘  (۲)
(1546)…حضرتِ سیِّدَتُناام بُجَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور میں ایک پیالہ میں ستو تیار کرکے پینے کے لئے پیش کرتی۔ ایک بار تشریف لائے تو میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اپنے پاس موجود چیز میں سے بعض اوقات میں سائل کو دینے کے لئے کچھ بچا کر رکھ لیتی ہوں (کیا ایسا کرنا درست ہے؟) ۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے ام بُجَید! سائل کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرو اگرچہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘  (۳)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح، الحدیث:۵۶۵۲، ج۴، ص۶۔
2…التمھیدلابن عبدالبر، باب الزای، حدیث ثالث وعشرون، ج۲، ص۴۱۶۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ام بجید، الحدیث:۲۷۲۲، ج۱۰، ص۳۳۹، ’’السائل‘‘ بدلہ ’’المسکین‘‘۔