آپ کے ہوتے ہرمصیبت ہیچ ہے:
(1543)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ احد کے دن اہلِ مدینہ میں کھلبلی مچ گئی اور مدینہ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں کہ حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہید کر دئیے گئے۔ چنانچہ، انصار کی ایک عورت نکلی، اس نے اپنے بھائی، بیٹے، خاوند اور والد کی لاشیں دیکھیں (جو شہید ہوچکے تھے) لیکن وہ نہ جانتی تھی کہ پہلے کس کے پاس سے گزری جب آخری شہید کے پاس سے گزری تو پوچھا: ’’یہ کون ہیں؟‘‘ لوگوں نے بتایا: ’’یہ تیرا بھائی، والد، تیرا شوہر اور تیرا بیٹاہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’جان کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس حال میں ہیں؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بتایا: ’’حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سامنے (کی جانب) ہیں۔‘‘ چنانچہ، انصاریہ صحابیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پہنچیں اور دامن مبارک پکڑ کر عرض کرنے لگیں: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ سلامت ہیں تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا شمار بھی ان صحابیات میں ہوتا ہے جنہیں آزمایشوں میں مبتلا کیا گیا تو انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
صبر کا انعام جنت:
(1544)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’کیوں نہیں۔‘‘ فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی عورت ہے۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میں کھل جاتی ہوں(دوپٹہ وغیرہ اتر جاتا ہے اور خوف کرتی ہوں کہ کبھی بیہوشی میں ستر نہ کھل جائے) ، لہٰذا میرے لئے دعا فرمائیے۔‘‘ تو مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السیرۃ النبویۃلابن ھشام، غزوۃ احد، ص۳۴۰، بتغیر۔