Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
118 - 603
قبولِ اسلام:
(1542)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ (حضرتِ سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) عرب کے کسی قبیلے کی باندی تھیں انہوں نے ان کو آزاد کر دیا لیکن پھر بھی یہ انہیں کے ساتھ رہتیں۔ ایک مرتبہ قبیلے کی ایک بچی گھر سے باہر نکلی، اس کے گلے میں سرخ رنگ کے قیمتی موتیوں کا ہار تھا۔ بچی نے ہار اتار کر کہیں رکھ دیا یا وہ کہیں گر گیا۔ ایک چیل اسے گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ قبیلے والوں نے اسے بہت تلاش کیا نہ پایا تو حضرتِ سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر الزام لگا دیا اور ان کی تلاشی لینے لگے حتی کہ شرمگاہ میں بھی تلاش کیا۔ خود بیان کرتی ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اسی حالت میں کھڑی تھی کہ چیل نے وہ ہارقبیلے والوں کے درمیان گرا دیا۔ میں نے کہا: ’’یہ ہے وہ ہار جس کی چوری کا الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو حالانکہ میں اس سے بری الذمہ ہوں۔‘‘ پھر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام لے آئیں۔ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ان کا خیمہ مسجد (کے احاطہ) میں تھا وہ میرے پاس آکر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں اور جب بھی کسی مجلس میں بیٹھتیں تو یہ شعر پڑھتیں:
وَیَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِیْبِ رَبِّنَا 		اَلَا اِنَّہُ مِنْ  بَلْدَۃِ الْکُفْرِ نَجَانِیْ
	ترجمہ: ہار (گم ہونے) کے دن کا واقعہ میرے رب کے عجائبات میں سے ہے۔ سنو! اسی واقعہ کے سبب مجھے کفرستان سے نجات ملی۔
	میں نے ان سے پوچھا: ’’کیا بات ہے کہ تم جب بھی کسی مجلس میں بیٹھتی ہو تو یہ شعر پڑھتی ہو؟‘‘ تب انہوں نے یہ سارا واقعہ سنایا۔  (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ان صحابیات میں سے ہیں جن کی نگاہ میں مصائب ومشقتیں حقیر تھیں اور وہ آفات ومصائب پر صبر کرتی تھیں۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: مشکلات پر صبر کرنے اور عطیات وغیرہ پر شکر بجالانے کا نام تصوُّف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۵۷، امۃ لبعض العرب، ج۲، ص۵۳، بتغیر۔