حضرتِ سیِّدَتُنا ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضور سیِّد عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خادمہ حضرتِ سیِّدَتُنا ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ راہِ خدا میں جہاد کرنے والی اور خود کو رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے جھکانے والی تھیں۔
(1540)…حضرتِ سیِّدَتُنا ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ’’جب حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (ایک غزوہ کے موقع پر) دیوار پر چڑھ کر مشرکین کو تیر مارنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے خود کو جھکا دیا (تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آسانی سے دیوار پر چڑھ سکیں)۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا عمیرہ بنت مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا عمیرہ بنت مسعود اور ان کی بہنوں رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا شمار بھی جانثار صحابیات میں ہوتا ہے۔
کبھی دَرْد والم کی شکایت نہ ہوئی:
(1541)…حضرتِ سیِّدَتُنا عمیرہ بنت مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ’’میں نے اپنی پانچ بہنوں کے ہمراہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر بیعت کی، اس وقت پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خشک کیا ہوا گوشت تناول فرما رہے تھے۔ کچھ گوشت چبا کر ہمیں عطا فرمایا تو ہم نے اسے آپس میں تقسیم کرکے ایک ایک ٹکڑا چبا لیا۔ چنانچہ، اس کی برکت سے مرتے دم تک ہم نے نہ تواپنے منہ میں کسی قسم کی بو محسوس کی اور نہ ہی کبھی دَرْد والم کی شکایت ہوئی۔‘‘ (۲)
حضرتِ سیِّدَتُنا سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا سوداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ نے مساجد کو وطن بنا لیا تھا اور مجالس ومحافل میں ہر قسم کے گمان سے محفوظ تھیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب، الرقم:۳۵۲۴، ماریۃ خادم رسول اللّٰہ، ج۴، ص۴۶۴۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۸۵۲، ج۴۲، ص۳۴۱، باختصار۔
اسد الغابۃ، الرقم:۷۱۴۶، عمیرۃ بنت مسعود، ج۷، ص۲۲۶۔