سے چیزیں بنا کر فروخت کیا کرتی تھیں۔ (ایک دن) انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ اور آپ کے بیٹے نے مجھے راہِ خدا میں صدقہ و خیرات کرنے سے روک رکھا ہے، لہٰذا آپ بارگاہِ سالت میں حاضر ہوکر پوچھئے کہ اگر مجھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر خرچ کرنے میں اجر وثواب ملتا ہے تو ٹھیک ورنہ میں راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کیا کروں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اگر تمہیں ہم پر خرچ کرنے میں اجر وثواب نہ ملتا تو میں یہ کبھی پسند نہ کرتا کہ تم ہم پر خرچ کرو۔‘‘ چنانچہ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خود ہی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اس بارے میں عرض کی تو حضورنبی ٔکریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو! بے شک تم جوکچھ بھی ان پر خرچ کرو گی اس کا تمہیں ضرور اجر ملے گا۔‘‘ (۱)
صدقہ کرنے میں دگنا اجر:
(1539)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ مُکَرَّم، نُورِ مجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں سے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ کرو! اگرچہ اپنے زیورات ہی میں سے۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: ’’کیا مجھے آپ پر اور اپنے یتیم بھتیجوں، بھانجوں پر صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا؟‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تنگ دست تھے۔ انہوں نے فرمایا: ’’اس بارے میں حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھ لو۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو اتفاق سے ایک زینب نامی انصاری عورت اسی بارے میں سوال کرنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے پاس آئے، ہم نے ان سے عرض کی: ’’حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ پوچھئے اور ہمارے بارے میں نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں؟‘‘ لہٰذا انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر مسئلہ پیش کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’انہیں بتادو کہ تمہارے لئے اس میں دو اجر ہیں: (۱)…صلہ رحمی کا اور (۲)…صدقہ کرنے کا۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث رائطۃ امراۃ عبد اللّٰہ، الحدیث:۱۶۰۸۶-۱۶۰۸۵، ج۵، ص۴۴۳۔
2…صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃعلی الزوج…الخ، الحدیث:۱۴۶۶، ج۱، ص۴۹۵، بتغیرقلیل۔