اپنی (انگلیوں) کے پوروں پر شمار کیا کرو کیونکہ ان (یعنی انگلیوں) کو قوتِ گویائی دی جائے گی اور ان سے سوال ہوگا اور کبھی غافل نہ ہونا ورنہ تم رحمت سے بھلا (یعنی دور کر) دی جاؤگی۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدَتُنا زینب ثَقَفِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ کثرت سے خیرات کرنے والی اور نماز کی پابند تھیں۔ نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے قربِ الٰہی کے حصول کے لئے اپنے زیورات راہِ خدا میں صدقہ کردیئے تھے۔
عذابِ جہنم سے بچنے کاذریعہ:
(1537)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، منزہٌ عن الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبح کی نماز ادا فرما کر واپس لوٹے اور عورتوں کے پاس کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: ’’اے بیبیو! میں نے اہل جہنم میں اکثر عورتوں کو دیکھا، لہٰذا اپنی استطاعت کے مطابق (صدقہ وخیرات کے ذریعے) قربِ الٰہی حاصل کرو۔‘‘ وہاں حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ بھی تھیں۔ وہ گھر گئیں اپنے شوہر کو حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے بارے میں بتایا اور زیورات اٹھانے لگیں تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’انہیں کہاں لے جارہی ہو؟‘‘ عرض کی: ’’(صدقہ کرکے) ان کے ذریعے اللّٰہو رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قرب حاصل کروں گی تاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اہل جہنم میں سے نہ کرے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ انہیں مجھ پر اور میرے بیٹے پر صدقہ کردو کیونکہ ہم اس کے (زیادہ) مستحق ہیں۔‘‘ (۲)
اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے:
(1538)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عبداللّٰہ ثقفی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بہن لیطہ جو حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ہیں سے روایت کرتے ہیں: آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہنرمند خاتون تھیں اور اپنے ہاتھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۸۰، ج۲۵، ص۷۴۔
2…صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکاۃ، باب استحباب اتیان المرأۃ زوجہا…الخ، الحدیث:۲۴۶۱، ج۴، ص۱۰۶۔