Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
114 - 603
وصالِ ظاہری کے بعد ایک دن امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’چلو حضرتِ امِ ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملنے چلتے ہیں جیسا کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں شرف ملاقات سے نواز نے کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔‘‘ چنانچہ، جب حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دونوں حضرات کو دیکھا تو رونے لگیں۔ انہوں نے پوچھا: ’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘ عرض کی: ’’میں اس (یعنی رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کی) وجہ سے نہیں رو رہی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ پہلے سے بہتر مقام (یعنی رفیقِ اعلیٰ کی جانب) تشریف لے گئے ہیں بلکہ میں تو اس وجہ سے رو رہی ہوں کہ آسمانی خبر (یعنی وحی) کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے۔‘‘ اتنا سن کر یہ دونوں حضرات بھی زاروقطار رونے لگے۔  (۱)
(1535)…حضرتِ سیِّدُنا طارق بن شہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْوَہَاب فرماتے ہیں کہ جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصالِ ظاہری ہوا تو اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں۔ رونے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’میں اس وجہ سے رو رہی ہوں کہ اب ہم سے وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے۔‘‘  (۲)
حضرتِ سیِّدَتُنا یُسَیْرَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا یسیرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ہجرت کرنے والی صحابیات میں سے ہیں۔ آپ ہر وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتہلیل اور ذکر واذکارمیں مصروف رہتی تھیں۔
حمد وثنا خود پر لازم کرلو!
(1536)…حضرتِ سیِّدَتُنا یسیرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے ارشاد فرمایا: ’’اے بیبیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتہلیل اور پاکی بیان کرنے کو خود پر لازم کرلو اور انہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل امّ ایمن، الحدیث:۲۴۵۳۔۲۴۵۴، ص۱۳۳۲۔۱۳۳۳۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۲۷، ج۵۲، ص۸۸۔