اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے گھر قیام فرمایا، رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے تو مٹی کے ایک ٹھیکرے میں بول (یعنی پیشاب) فرمایا۔ مجھے رات کے وقت سخت پیاس محسوس ہوئی تو جو کچھ ٹھیکرے میں تھا میں اسے پی گئی حالانکہ میں نہ جانتی تھی کہ اس میں کیا ہے (۱)۔ جب صبح ہوئی تو مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے ام ایمن! ٹھیکرے میں جو کچھ ہے اسے گرا دو۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اس میں جو کچھ تھا وہ تو میں پی گئی۔‘‘ (یہ سن کر) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرائے یہاں تک دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’سنو! آج کے بعد تمہارے پیٹ میں کبھی تکلیف نہ ہوگی۔‘‘ (۲)
(1533)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے آٹا چھان کر روٹی بنائی تو آپ نے استفسار فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’ہم اسی طرح آٹا چھان کر روٹی پکاتے تھے، اس لئے میں نے چاہا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے بھی آٹا چھان کر روٹی پکاؤں۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’بغیر چھنے آٹے کی روٹی پکایا کرو۔‘‘ (۳)
غمِ مصطفیٰ:
(1534)…حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِلبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس گیا انہوں نے بارگاہِ رسالت میں کھانا یا کوئی مشروب پیش کیا۔ اس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا تو روزے سے تھے یا پھر کچھ کھانے پینے کی خواہش نہ تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا (کھانے یا مشروب وغیرہ پینے کے لئے) اصرار کرنے لگیں کہ ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کچھ تو تناول فرمالیجئے۔‘‘پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فضلات شریفہ طیب و طاہر ہیں جن کا کھانا، پینا ہمیں حلال اور ہمارے لئے باعث برکت ہے۔ (ماخوذازدرالمختاروردالمحتار، ج۱، ص۵۷۴)۔مزید تفصیل جاننے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظات اعلیٰ حضرت‘‘ صفحہ 456تا 458کا مطالعہ کیجئے!
2…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب شرب ام ایمن بول النبی و اثرہ، الحدیث:۶۹۹۶، ج۵، ص۸۵۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الاطمعۃ، باب الحواری، الحدیث:۳۳۳۶، ج۴، ص۴۲۔