Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
109 - 603
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ عمارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا ام عمارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور کفار کے ساتھ جہاد بھی کیا۔ آپ بہت محنت وکوشش کرنے والی، نماز وروزہ کی پابند اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسا کرنے والی خاتون تھیں۔
(1526)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ بیعت عقبہ کے موقع پر دو عورتوں نے حاضر ہوکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دستِ اقدس پر بیعت کی۔ ان میں سے ایک ام عمارہ حضرتِ سیِّدَتُنا نُسَیْبَہ بنت ِ کعب بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں۔ انہوں نے حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ مختلف غزوات میں شرکت کی۔ غزوۂ اُحد میں اپنے شوہر حضرتِ سیِّدُنا زیدبن عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دو بیٹوں حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن زید اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ہمرا ہ شریک ہوئیں تھیں۔ ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا حبیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مسیلمہ کذاب نے قید کرکے پوچھا: ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں!‘‘ پھر پوچھا: ’’کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللّٰہ کا رسول ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’میں اس بات کی ہرگز گواہی نہیں دیتا۔‘‘ چنانچہ، مسیلمہ کذاب نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں شہید کر دیا۔‘‘ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِخلافت میں فتنہ ارتداد کے وقت حضرتِ سیِّدَتُنا نُسَیْبَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ (مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے) نکلیں۔ خوب گھمسان کا رن پڑا حتی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مسیلمہ کذاب کو واصل جہنم کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا معرکہ سے اس حال میں لوٹیں کہ آپ کے جسم پر تیروں اور نیزوں کے 10زخم تھے۔  (۱)
روزہ دار کے لئے فرشتوں کی دعائے مغفرت:
(1527)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام عمارہ بنت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، بی بی آمنہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب، الرقم:۳۶۲۴-۴۸۷، ج۱-۴، ص۵۰۲-۳۸۱۔