تشریف لے جایا کرتے اور انہیں شہیدہ کے نام سے یاد فرماتے تھے۔ انہوں نے قرآنِ مجید یاد کر رکھا تھا۔ جب پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ بدر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو حضرتِ سیِّدَتُنا ام وَرقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: ’’مجھے بھی جہاد میں جانے کی اجازت عطافرما دیجیے! میں زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی تیمارداری کروں گی۔ شاید (اسی خدمت کی وجہ سے) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے بھی شہادت کے منصب پر فائز فرما دے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے شہادت تیرے لئے مقدر فرمادی ہے۔‘‘ چنانچہ، امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ خلافت میں حضرتِ سیِّدَتُنا ام وَرقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ایک مدبر (۱) غلام اور لونڈی نے ان پر حملہ کرکے انہیں شہید کر دیا۔ جب امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بتایا گیا کہ حضرتِ سیِّدَتُنا ام وَرقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ان کے غلام اور لونڈی نے شہید کر دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سچ فرمایا۔ آپ (صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے) فرمایا کرتے تھے کہ چلو شہیدہ سے ملنے چلیں۔‘‘ (۲)
حضرتِ سیِّدَتُنا ام سَلِیْط اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
خوب محنت کرنے والی غازیہ حضرتِ سیِّدَتُنا ام سَلِیط انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ نے حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں غزوۂ احد میں شرکت کی اور خوب محنت کی۔ نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی تھیں۔
عمدہ قسم کی چادر:
(1524)…حضرتِ سیِّدُنا ثعلبہ بن ابی مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1182صفحات پر مشتمل کتاب بہارِشریعت جلددوم صفحہ290 پر صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں: مدبر اوس کو کہتے ہیں جس کی نسبت مولیٰ (آقا) نے کہاکہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے یا یوں کہا کہ اگر میں مر جاؤں یا جب میں مروں تو تُو آزاد ہے غرض اسی قسم کے وہ الفاظ جن سے مرنے کے بعد اوس کا آزاد ہونا ثابت ہوتا ہے۔
2…السنن الکبری للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب اثبات امامۃ المرأۃ، الحدیث:۵۳۵۳، ج ۳، ص۱۸۶۔