Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
105 - 603
صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدَتُنا ام حرام بنت ملحان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں قیام فرماتے (۱)۔ ایک دن تشریف لے گئے تو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں کچھ کھانے کو پیش کیا پھر بیٹھ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر میں جوئیں (۲) دیکھنے لگیں۔ مصطفیٰ جان رحمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس بات پر مسکرارہے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے جو اس سمندر کی فراخی میں سوار ہوں گے جیسے بادشاہ یا (فرمایا) بادشاہ کے تخت پر بیٹھنے کی طرح۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لئے دعا فرمائی، پھر آرام فرمانے لگے۔ کچھ دیر بعد پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کی: ’’کس بات پر مسکرارہے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں مجاہدانہ شان سے۔‘‘ جیسا کہ پہلی بار فرمایا تھا۔ میں نے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرما دے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تم پہلوں میں سے ہو۔‘‘ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ (گورنری) میں حضرت سیِّدَتُنا امِ حرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سمندری سفر پر روانہ ہوئیں۔ جب لوٹیں تو سواری پر سوار ہوتے وقت گرکر وصال فرماگئیں۔  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حضرت سیِّدَتُنا ام حرام بنت ملحان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا باعتبارِ رضاعت یا نسب کے حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خالہ تھیں۔(ماخوذازشرح المسلم للنووی، ج۸، جز۱۶، ص۱۰)
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد8، صفحہ79 پر ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: خیال رہے حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سر یا کپڑوں میں جوئیں پڑتی نہ تھی ہاں دوسرے کی چڑھ جاتی تھیںوہ آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اپنے کپڑوں سے صاف کرتے تھے اور ام حرام (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سر شریف سے نکالتی تھیں۔ ہاں مکھی جسمِ پاک پر نہیں بیٹھتی تھی، مچھر حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو ایذا نہ دیتے تھے۔
3…صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الغزوفی البحر، الحدیث:۱۹۱۲، ص۱۰۵۸۔۱۰۵۹۔
شرح المسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب فضل الغزوفی البحر، ج۷، جز۱۳، ص۵۹۔