Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
104 - 603
مشکبار پسینہ:
(1518)…حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور کچھ دیر کے لئے قیلولہ فرمایا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پسینہ آیا تو حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک بوتل لے آئیں اور پسینہ اس میں بھرنے لگیں اسی دوران مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوگئے اور ارشاد فرمایا: ’’اے اُم سُلَـیْم! کیا کر رہی ہو؟‘‘ عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ کا پسینہ مبارکہ ہے اسے ہم اپنی خوشبو میں ملائیں گے کیونکہ یہ خوشبو سے بھی زیادہ مشکبار ہے۔‘‘  (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ حرام بِنْتِ مِلْحانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا ام حرام بنت ملحان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  بھی صحابیہ ہیں۔ آپ نیک خصلت، سمندری لشکر میں منصب شہادت پر فائز ہونے والی اور مشاہدۂ جنت کی مشتاق تھیں۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے، ایثار کا جذبہ رکھنے اور نیک لوگوں کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
بشارتِ مصطفیٰ:
(20-1519)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب کبھی قباء کی جانب تشریف لے جاتے تو حضرت سیِّدُنا عبادہ بن 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اور حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں آپس میں بہنیں اور پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خالائیں اور محرم تھیں باعتبارِرضاعت یانسب کے، لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ان کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا جائز تھا۔ اسی وجہ سے ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے علاوہ خاص طور پر صرف انہیں کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔‘‘
(شرح المسلم للنووی، کتاب الفضائل، باب فضائلِ ام سلیم، ام انس بن مالک وبلال، ج۸، جز۱۶، ص۱۰)
1…صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب طیب عرق النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم…الخ، الحدیث:۲۳۳۱۔۲۳۳۲، ص۱۲۷۲۔