لائی ہوں کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کے ذریعے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے سنا کہ اُم سُلَـیْم کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے اُم سُلَـیْم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے عمدہ طریقے سے ہماری کفایت فرمائی۔‘‘ (۱)
مجاہدین کی خدمت کاجذبہ:
(1516)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’میں نے غزوۂ اُحد کے دن ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے پائینچے اوپر کئے ہوئے تھے۔ اچانک میری نظر پڑی تو میں نے ان کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھی (۲)۔ وہ دونوں پانی سے بھرے مشکیزے پیٹھ پر اٹھا کر لاتیں اور مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں۔‘‘ (۳)
مجھے اس پر رحم آتا ہے:
(1517)…حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ زَادَہَا اللَّہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے گھروں کے علاوہ صرف حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو ارشاد فرمایا: ’’اس کا بھائی میرے ساتھ شہید ہوا ہے اس لئے مجھے اس پر رحم آتا ہے۔‘‘(۴) (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب غزوۃ النساء مع الرجال، الحدیث:۸۶۴۰، ص۱۰۰۲۔
2…اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس قول کہ ’’میں نے ان کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھی‘‘ سے بے پردگی کا احتمال ہورہا ہے تو اس کی کیا توجیہہ ہوگی؟ جواب: حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نووی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’یہ اس وقت کا واقعہ ہے جبکہ ابھی پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا یا (اگر حکم نازل ہوچکا تھا تو) حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر بلاقصد اچانک پڑگئی تھی اور بلاقصد غیرمحرم پر نظر پڑجائے تو اس پر مواخذہ نہیں۔‘‘(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، تحت الحدیث:۲۸۸۰، ج۱۰، ص۲۰۰، ملخصًا، دارالفکربیروت)
3…صحیح البخاری، کتاب الجھادوسیر، باب غزوۃ النساء…الخ، الحدیث:۲۸۸۰، ج۱، ص۲۷۵۔
4…صحیح البخاری، کتاب الجھادوسیر، باب فضل من جھّز…الخ، الحدیث:۲۸۴۴، ج۲، ص۲۶۷۔
5…حضرتِ سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نووی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدَتُنا ام حرام بنتِ ملحان …