Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
102 - 603
سیِّدَتُنا اُم سُلَـیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کاحق مہر:
(13-12-11-1510)…حضرتِ سیِّدُنا نَضْر بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو نکاح کا پیغام بھیجا اور اس معاملہ میں ان سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا: ’’اے ابوطلحہ! آپ جیسے لوگوں کے پیغام کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن آپ مسلمان نہیں ہیں جبکہ میں مسلمان ہوں۔ لہٰذا میرا آپ سے نکاح نہیں ہوسکتا۔‘‘ انہوںنے پوچھا: ’’تمہارا مہر کیا ہے؟‘‘ کہا: ’’میرا مہر کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ کہا: ’’سونا چاندی۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ’’مجھے سونے چاندی کی ضرورت نہیں میں تو یہ چاہتی ہوں کہ آپ اسلام قبول کرلیں۔‘‘ پوچھا: ’’اس معاملے میں کون میری مدد کرے گا؟‘‘ کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، منزہٌ عن الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔‘‘ ابوطلحہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں نکل پڑے اس وقت آپ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے جھرمٹ میں جلوہ فرما تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب انہیں آتے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’ابوطلحہ اپنی پیشانی میں اسلام کی چمک لئے آرہا ہے۔‘‘ چنانچہ، انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ساری گفتگو عرض کردی۔ پھر اسی مہر (یعنی قبولِ اسلام) پرآپ نے ان سے نکاح کرلیا۔
	حضرتِ سیِّدُنا ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی مہر اس سے بھی عظیم الشان ہو۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا قبولِ اسلام کے مہر ہونے پر راضی ہوگئیں اور دونوں کا نکاح ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت خوبصورت تھیں اور آنکھوں میں ہلکی سی زردی بھی تھی۔  (۱)
سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا جذبۂ جہاد:
(15-1514)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین کے دن حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ تھیں اور ان کے پاس ایک خنجر تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا: ’’اے اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا! یہ کیا ہے؟‘‘ عرض کی: ’’میں اسے اس لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السنن الکبری، کتاب الجنائز، باب الرغبۃ…الخ، الحدیث:۷۱۳۰، ج۴، ص۱۰۹۔