دعائے مصطفیٰ کی برکت:
(9-1508)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا پھر وہ بیمار ہوگیا اور بیماری بڑھتی گئی حتی کہ فوت ہوگیا۔ اس کے انتقال کے وقت حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت میں تھے اور مغرب کی نماز ادا فرما کر واپس لوٹے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بچے کی طرف بڑھے تو زوجہ محترمہ نے عرض کی: ’’میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دیتی ہوں کہ اس کے قریب مت جائیے کیونکہ یہ جب سے بیمار ہوا ہے آج کی رات پہلے سے بہت بہتر ہے۔‘‘ پھر حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے شام کا کھانا پیش کیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھانا تناول فرمایا پھر زوجہ محترمہ صحبت کی غرض سے خوشبو وغیرہ لگا کر آپ کے قریب ہوگئیں۔ جب حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حق زوجیت ادا کرچکے تو زوجہ محترمہ نے عرض کی: ’’ان پڑوسیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنے پڑوسیوں کو کوئی چیز ادھار دیں اور وہ یہ سمجھیں کہ انہوں نے یہ چیز ان کے پاس چھوڑ دی (یعنی ان کی ملک کردی) ہے۔ جب وہ اس چیز کا مطالبہ کریں تو کیا ان کے لئے جائز ہے کہ اس میں رغبت ہونے کی وجہ سے اسے واپس نہ کریں؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’(اگر ایسا کیا تو) انہوں نے بہت بُرا کیا۔‘‘ زوجہ نے عرض کی: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فلاں بچہ آپ کو عاریتاً دیا تھا اب اس نے اسے واپس لے لیا ہے اور وہ اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔‘‘اگلے روز صبح کے وقت حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو حضور نبی ٔرحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (انہیں دعا سے نوازتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں) عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ان کی گزشتہ رات میں برکت عطا فرما۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن ابی طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پیدا ہوئے(راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے مسجد میں ان کے سات بیٹے دیکھے جو سب کے سب قاری ٔ قرآن تھے)۔ (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود…الخ، الحدیث:۰۵۴۷، ج۳، ص۵۴۷۔
دلائل النبوۃ للبیھقی، باب ماجاء فی دعائہ…الخ، ج۶، ص۱۹۹۔