(1505)…حضرتِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے خود کو حضرتِ ابوطلحہ کی زوجہ رُمَیْصَاء کے پاس پایا۔‘‘ (۱)
صبر ہو تو ایسا:
(7-1506)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے جو حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے تھے بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں فوت ہوگئے تو حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں کپڑے سے ڈھانپ دیا پھر حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے حسب ِ سابق رات کا کھانا تیار کرنے لگیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر آئے اور بچے کے بارے میں پوچھا تو زوجہ نے عرض کی: ’’اچھے حال میں ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا۔ زوجہ نے کھانا پیش کیا۔ پھر اٹھیں اور بناؤسنگھار کیا جس طرح بیویاں شوہروں کے لئے کرتی ہیں تو حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حقِ زوجیت ادا کیا۔ جب صبح ہوئی تو زوجہ نے عرض کی: ’’اے ابوطلحہ ! آپ کا آلِ فلاں کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جنہوں نے کوئی چیز ادھار لی ہو اور اس سے پوری طرح نفع حاصل کر چکے ہوں، جب ان سے واپسی کا مطالبہ کیا جائے تو ان پر گراں گزرے۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’ادھار لینے والوں نے انصاف نہیں کیا۔‘‘ زوجہ نے عرض کی: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیٹا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امانت تھی جسے اب اس نے واپس لے لیا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا بیان کی اور اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ) ۲) پڑھا۔ جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی ٔاکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (انہیں دیکھتے ہی) ارشاد فرمایا: ’’اے ابوطلحہ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری گزشتہ رات میں برکت عطا فرمائے۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدَتُنا اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پیدا ہوئے۔ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر…الخ، الحدیث:۳۶۷۹، ج۲، ص۵۲۵۔
2…ہم اللّٰہ کے مال ہیں اورہم کواسی کی طرف پھرنا۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس ابن مالک، الحدیث:۱۲۰۲۸، ج۴، ص۲۱۱، بتغیرقلیل۔