Brailvi Books

فیضان امام اہل سنت صفرالمظفر1440نومبر2018
55 - 70
ہمشیرۂ عطّاؔر(فوئی ماں)کا وِصالِ پُر ملال
 شیخِ طریقت  امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا  ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بڑی بہن فاطمہ بنتِ حاجی عبدالرحمن(عرف فوئی ماں) طویل  علالت کے بعد جمعۃ المبارک 26 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ مطابق 7ستمبر 2018ء کو  تقریباً 80برس کی عمر میں وصال فرماگئیں، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ  ۔شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی بہن کے بارے میں جن جذبات کا اظہار فرمایا ان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
حالاتِ ہمشیرۂ عطار بزبانِ عطار
میری عمر ڈیڑھ دو سال تھی جب والد صاحب حاجی عبدالرحمن قادری  کا سایہ عاطفت اُٹھ گیا، تھوڑا جوان ہوا تو بڑے بھائی محترم عبدالغنی صاحب بھی ایک  ٹرین حادثے میں انتقال فرماگئے۔میری ماں  صالحہ اور پرہیزگار خاتون تھیں انہوں  نے سخت ترین معاشی آزمائشوں کے باوجود ہماری تربیت اسلامی خطوط پر کی لیکن بڑے بھائی کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہی مادرِ مشفقہ نے  بھی  سفرِ آخرت اختیار کرلیا۔اس غمناک موقع پر میں نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ایک استغاثہ  لکھا:
میں ننھا تھا چلا والد، جوانی میں گیا بھائی
بہاریں بھی نہ دیکھی تھی چلی ماں یا رسول اللہ
ایسے اعصاب شِکن حالات میں بڑ ی بہن مرحومہ فاطمہ بنتِ حاجی عبدالرحمٰن جو مجھ سے سات سے دس سال بڑی تھیں بچپن میں بھی انہوں نے ہمیں سنبھالا، کھلایا پلایا،اٹھایا جوانی میں بھی سہارا بنی رہیں۔نہایت عقلمند خاتون تھیں۔ کسی بیماری کے باعث ان کا دَھڑ آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ گیا تھاجس کے سبب چلنے، پھرنے اور اُٹھنے سے معذور ہوگئیں لیکن اس کے باوجود گھر میں سب سے زیادہ  فعّال (Active) یہی تھیں۔ حتیٰ کہ  علالت سے قبل تک کھانا یہی پکاتی تھیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ آخری ایام میں بیماری کا اس قدر غلبہ رہا  کہ  میں اُن سے ملنے  جاتا تو پہچان نہ پاتیں اور جب بتانے پر پہچان لیتیں تو رونے لگتیں، آخری بار بھی جب ان سے ملنے  گیا تو مجھے پہچان نہ پائیں، میں نے بھی اپنا تعارف نہ کروایا کیونکہ پتا چلنے پر رونے لگتیں جس سے مجھے صدمہ ہوتا۔سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے بیمار ہونے کے بعد سے ہمارا گھر ویران سا ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد میری بہو نے مجھے تحریری پیغام دیا کہ ’’بیماری کے باوجود وہ مجھ(یعنی میری بہو) پر بڑی شفقت کرتی تھیں، ان کے انتقال پر تو ہمارا گھر سونا  سونا ہوگیا۔‘‘ چونکہ میں بھی ضعیف العمرہوں،میری ایک اور بڑی بہن ہیں وہ بھی  ضعیف العمر اور میرے بچوں کی امی بھی ضعیف العمر ہی ہیں لہٰذا دیکھ بھال کے لئے مرحومہ بہن بیماری سے وصال تک حاجی عبید رضا کے  گھر پر رہیں جہاں حاجی عبید رضا اور میری بہو نے جانی، مالی، علاج معالجہ اور ہر طرح سے ان کی خوب خدمت کی، تجہیز و تکفین کے آخری تمام مراحل بھی حاجی عبید رضا کے گھر پر  ہوئے۔ جتنی خدمت میرے بیٹے عبید رضا نے کی ہے میں سمجھتا ہوں اس نے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا۔ حاجی عبیدرضا  کا بیان ہے: ”جب پھوپھی جان اسپتال میں تھی تو میں انہیں بارہااپنی پہچان  کرواتا مگر  وہ جواب نہ دیتیں لیکن جب  ان کے سامنے یا سلامُ یا درودِ پاک پڑھتا تو ان کی طبیعت میں کچھ سکون محسوس کرتا۔“ ان کا مزید کہنا ہے کہ طبیعت بگڑنے پرجب اسپتال لے جانے لگے تو درود پاک پڑھا اور بے ہوش ہوگئیں اس کے بعد سے ان کی طبیعت سنبھل نہ پائی۔ بالآخر بروز جمعہ26 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ مطابق 7 ستمبر 2018ء کو اسپتال ہی میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ بعدِ غسل ان کا چہرہ نہایت روشن، چمکدار اور پُر رونق ہوگیا تھا۔ (ماخوذ از مدنی مکالمہ،7 ستمبر 2018ء بعد نمازِ جنازہ ، مدنی مذاکرہ 9 ستمبر 2018ء) 
نمازِ جنازہ و تدفین
مرحومہ کی نمازِ جنازہ 7 ستمبر 2018ء مطابق 27 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ بروز جمعہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی امامت میں ادا کی گئی جس میں  بشمول اراکینِ شوریٰ، ہزاروں عاشقانِ رسول نے  شرکت کی اور مرحومہ کو صحرائے مدینہ ٹول پلازہ باب المدینہ کراچی میں سپردِخاک کیا گیا۔
اجتماعاتِ ذکر و نعت بسلسلہ سوئم اور ایصالِ ثواب
9ستمبر بروز اتوار بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز  فیضانِ مدینہ میں اجتماعِ ذکر و نعت برائے سوئم کا سلسلہ ہوا جس میں قراٰن و نعت  خوانی اور نگرانِ شوریٰ مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا سنّتوں بھرا بیان ہوا،شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بھی مدنی پھول ارشاد فرمائے۔ ملک  اور بیرونِ ملک مدارس و جامعات المدینہ،مدنی مراکز، اہلِ سنّت کی کئی دینی درس گاہوں  اور مساجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لئے قراٰن  وفاتحہ خوانی اورسنّتوں  بھرے اجتماعات کا اہتمام کیا گیا جن میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ملک و بیرونِ ملک سے موصول ہونے والےایصالِ ثواب کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے:٭قراٰنِ پاک:92لاکھ19ہزار700 ٭مختلف پارے:96 ہزار 6 سو 77 ٭درود شریف: 79ارب 10 کروڑ 36 لاکھ 58 ہزار 610  ٭حج و عمرہ کا ثواب:66 ٭طواف کا ثواب:28 ٭استغفار:3 کروڑ 15 لاکھ 44 ہزار 370 ٭آیتِ کریمہ:28 لاکھ 13 ہزار  523  ٭تسبیح فاطمہ:5 لاکھ 5 ہزار 657 ٭ذکر اللہ: 37 لاکھ 26 ہزار 264 ٭کلمہ طیبہ:1 کروڑ 77 لاکھ 82 ہزار