اشعار کی تشریح
(ابو الحسان عطاری مدنی)
ماہِ میلاد ربیعُ الاوّل شریف کی مناسبت سے خلیفۂ اعلیٰ حضرت مَدَّاحُ الْحبیب مولانا جمیل الرّحمٰن قادری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے نعتیہ دیوان ”قبالۂ بخشش“سے دو اشعار مع شرح پیشِ خدمت ہیں:
قبائل کے حصے کیے جب خدا نے
کیا سب سے اعلیٰ قبیلہ تمہارا
شرح اللہ پاک نے انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی پہچان کے لئے جب مختلف قوموں،قبیلوں اور خاندانوں میں تقسیم فرمایا تو اپنے آخری نبی، محمدِ عربی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سب سے افضل و اعلیٰ قبیلے اور خاندان میں پیدا فرمایا۔
خاندان و قبیلۂ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل مدینے کے تاجدار، سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے مبارک قبیلے یعنی قریش اور مقدس خاندان یعنی بنوہاشم کے بارے میں ارشاد فرمایا:(1)سب آدمیوں سے بہتر عرب ہیں، سب عرب سے بہتر قریش اور سب قریش سے افضل بنوہاشم ہیں۔(کنزالعمال،ج6،ص40،حدیث:34104،جزء:12)(2)اللہکریم نے قریش کو ایسی سات باتوں سے فضیلت دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملیں، نہ ان کے بعد کسی کو عطا ہوں:(1)ایک تو یہ کہ میں قریشی ہوں (یہ تمام فضائل سے ارفع و اعلیٰ ہے) (2)خلافت(3) کعبۂ معظمہ کی دربانی اور (4)حاجیوں کو پانی پلانے کی سعادت انہیں عطا فرمائی (5)ہاتھی والوں کے لشکر کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائی (6)انہوں نے دس سال تک اللہ پاک کی عبادت تنہا کی کہ ان کے سوا روئے زمین پر کسی اور قبیلے کے لوگ اس وقت عبادت نہ کرتے تھے (7)اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قراٰنِ عظیم کی ایک سورۂ مبارکہ اتاری جس میں صرف ان کا ذکر فرمایا اور وہ سورت ” لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ(۱) “ہے۔(تاریخ ابنِ عساکر،ج 64،ص15،جمع الجوامع،ج 5،ص235، حدیث:14765،فتاویٰ رضویہ،ج23،ص212ملخصاً)
رضاعت کے ایّام میں یہ حکومت
کہ تھا قُرْصِ مَہ اِک کھلونا تمہارا
الفاظ و معانی رضاعت کے ایّام:بچے کو دودھ پلانے کا عرصہ۔ قُرْصِ مَہ:چاند کی ٹکیایعنی گول چاند۔
شرح نبیوں کے امام صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم شِیرخواری یعنی دودھ پینے کے دنوں میں جب چاند کی جانب اشارہ فرماتے تو وہ آپ کے اشارے پر چلتا تھا، گویا بچپن سے ہی زمین و آسمان پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حکومت جاری تھی۔
نور کا کھلوناحضرت سیِّدُنا عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارَسُولَ اللہ!مجھے آپ کی نُبُوَّت کی نشانیوں نے آپ کے دِین میں داخِل ہونے کی دعوت دی تھی، میں نے دیکھا کہ (بچپن میں) آپ گہوارے (یعنی جُھولے) میں چاند سے باتیں کرتے تھے اور جب اپنی انگلی سے اس کی جانب اشارہ کرتے تو جس طرف اِشارہ فرماتے چاند اس جانب جھک جاتا۔ حُضُورپُرنُور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”میں چاند سے اور وہ مجھ سے باتیں کرتاتھا ، وہ مجھے رونے سے بہلاتا تھا اور جب چاند عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا تو میں اُس کی تسبیح کی آواز سنا کرتا تھا۔“
(خصائص کبریٰ،ج1،ص91)
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی