Brailvi Books

فیضانِ مدینہربیع الاول ۱۴40ھ نومبر/دسمبر 2018ء
49 - 59
ایمان والے اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے)۔
پھر جن عالِم صاحب نے تُبَّع کی اصلاح کی تھی تُبَّع نے یہ خط اُنہی کے سپرد کردیا اور وصیّت کی کہ اگر آپ کی محمّدمصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات ہو تو یہ خط ان تک پہنچائیں اور اگر ملاقات نہ ہو تو آپ کی اولاد یا اولاد کی اولاد اِس خط کو بحفاظت بارگاہِ رِسالت میں پہنچائیں۔ اس کے بعد تُبَّع مدینۂ منورہ سے ہِنْد کے شہر غَلْسان چلا گیا اور وہاں اُس کا اِنتِقال ہو گیا۔ 
تُبَّع کے اِنتِقال سے تقریباً 1000 سال بعد مکّی مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وِلادتِ باسعادت ہوئی، 53 سال مکّہ مکرّمہ کو نوازنے کے بعد پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منوَّرہ کی طرف ہجرت کرنے کا اِرادہ فرمایا۔ اِس ہجرت میں مسلمانوں کی مدد کرنے والےمدینےشریف کے مسلمانوں کو ’’اَنْصار‘‘ کہا جاتا ہے، یہ اَنصار اُنہی 400 عُلَما کی اولاد سے تھے اور 1000 سال سے نسل دَر نسل خط کی حفاظت کرتے آرہے تھے۔ جب اَنصار کو حضورِ اَنور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مدینہ شریف تشریف آوَری کا اِرادہ معلوم ہوا تو اُن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اُنہوں نے بارگاہِ رِسالت میں تُبَّع کا خط پہنچانے کے لئے آپس میں مُشاوَرت کی، اِس مجلسِ مشاورت میں صَحابیِ رسول حضرتِ سیّدناعبدُ الرَّحمٰن بن عَوْف رضی اللہ تعالٰی عنہبھی تھے جو مکّہ سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تھے، اُنہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بااِعتِماد آدمی کو یہ خط دیا جائے جو بحفاظت اِسے بارگاہِ رِسالت میں پہنچا سکے، چنانچِہ وہ خط ابو لیلیٰ انصاری کے سِپُرد کر دیا گیاجو بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ 
اس کے بعد ابو لیلیٰ انصاری خط لے کر مکّہ جانے والے راستے پر نکل پڑے، سفر کے دوران جب قبیلۂ بنو سُلَیْم پہنچے تو وہاں پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جلوہ گر تھے، ابولیلیٰ اَنصاری آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نہیں پہچانتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جیسے ہی ابو لیلیٰ انصاری کو دیکھا تو پکارا: اَنْتَ اَبُوْ لَیْلٰی؟ یعنی تم ابو لیلیٰ ہو؟ عرض کی: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَمَعَکَ کِتَابُ تُبَّعِ الْاَوَّل تمہارے پاس ہی تُبَّعُ الاوّل کا خط ہے۔ اِتنا سننا تھا کہ ابو لیلیٰ انصاری حیران رہ گئے اور انہیں تعجّب ہوا کہ یہ کون شخصیت ہیں جو میرا نام بھی جانتے ہیں اور میرے یہاں آنے کے مقصد سے بھی واقف ہیں!اس لئے عرض کی: آپ کون ہیں؟ فرمایا: میں ہی محمّد ہوں، خط لاؤ! یہ سُن کر ابو لیلیٰ انصاری نے اپنا تھیلا کھولا اور تُبَّع بادشاہ کاتقریباً ایک ہزار سال پرانا مُہر لگا ہوا خط بارگاہِ رسالت میں پیش کردیا۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ سیّدُنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خط پڑھ کر سنانے کا حکم دیا، جب خط سنادیا گیا تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے 3 بار فرمایا: ’’مَرْحَبًا بِالْاَخِ الصَّالِح‘‘یعنی نیک بھائی کو خوش آمدید! نیک بھائی کو خوش آمدید! نیک بھائی کو خوش آمدید! اِس کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ابولیلیٰ اَنصاری کومدینےشریف کی طرف لوٹ جانے کا حکم دے دیا۔
ابو لیلیٰ انصاری جب مدینۂ منوَّرہ پہنچے تو اُنہوں نے بارگاہِ رِسالت میں خط پہنچانے کی رُوداد سنائی جسے سُن کر لوگوں نے اپنی اِستِطاعت کے مطابق ابو لیلیٰ انصاری کو اِنعام و اِکرام سے نوازا۔ اِس کے بعد جب مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ’’طَلَعَ الْبَدْرُعَلَیْنَا‘‘کی صداؤں میں مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھ کر اُسے ہمیشہ کےلئے ’’مدینۂ طیّبہ‘‘ بنایا تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُن کے ہاں قیام فرمائیں مگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میری اُونٹنی کو چھوڑد و! جہاں خدا کا حکم ہوگا یہ وہاں رُک جائے گی۔ چنانچہ اونٹنی چلتے چلتے صَحابیِ رسول حضرتِ سیّدُنا ابو ایّوب انصاری  رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر کے آگے رُک گئی، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اُنہی عالِم صاحب کی اَولاد میں سے تھے جنہوں نے تُبَّع کی اِصلاح کی تھی اور آپ کامکان وہی مکان تھا جو تُبَّع نے خاص پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے بنوایا تھا۔
(ماخوذ ازتاریخ دمشق،ج11،ص3تا14)
کرکے ہجرت یہاں آگئے مصطفےٰ
روشنی آج گھر گھر مدینے میں ہے
(وسائل بخشش(مرمم)، ص489)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ذمّہ دار شعبہ فیضان امیر اہلسنت ،المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی