سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی، جس پر مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کا یہ حال جان لیا اور ارشاد فرمایا: اللہ پر یہ حق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بُلند ہواسے پَست کردے۔ (بخاری،ج 2،ص274، حدیث:2872) عَضْباء نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور وفات پا گئی۔ بعض روایات کے مطابق قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی (3)جَدْعَا: اس پر سوار ہو کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حجۃُ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ (4)صَھْبَاء: حجۃُ الوداع کے دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس اونٹنی پر سوار ہوکر رَمِی فرمائی تھی یعنی مِنیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں ماری تھیں۔ (تفسیرِ روح البیان،پ14،النحل،تحت الاٰیۃ:7،ج5،ص8، الانوار فی شمائل النبی المختار،ج1،ص604، سبل الھدیٰ والرّشاد ،ج7،ص428، زرقانی علی المواہب،ج 5،ص110) اس کے علاوہ علمائےکرام نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مزید ان اونٹنیوں کے نام ذِکْر فرمائے ہیں: (5)مہرا (6)اَطْلَال (7)اَطراف (8)بردہ (9)بُغُوم (10)برکہ (11)حَنَّاء (12)زمزم (13)رَیَّا (14)سَعْدِیہ (15)سُقْیا (16)سَمرا (17)شَقرا (18)عَجرہ (19)عُرَیْس (20)غَوثہ (21)قَمریہ(22)مروہ(23)مُہرہ (24)وُرشہ (25)یَسییریہ۔(زرقانی علی المواہب ،ج5،ص111)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی