Brailvi Books

فیضانِ مدینہربیع الاول ۱۴40ھ نومبر/دسمبر 2018ء
44 - 59
اپنے بزرگوں کو یا درکھئے
وہ بزرگان دین جن کا وصال / عرس شَعْبَا نُ المُعظم میں ہے
ربیعُ الْاوّل اسلامی سال کا تیسرامہینا ہے۔ اس میں جن صَحابۂ کرام، اَولیائے عِظام اور عُلَمائے اسلام کا وصال یا عُرس ہے، ان میں سے17کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الاوّل 1439ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا۔ مزید کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
 صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوَان
 (1) حضرتِ سیّدنا ابراہیم:
نورِچشمِ رسول حضرتِ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ ذوالحجہ8ھ کو مدینۂ مُنَوَّرَہ میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیّدَتُنُامارِیہ قِبْطِیَّہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے اور 10ربیعُ الاول 10ھ کو وصال فرمایا۔جنّتُ البقیع میں دَفَن کئے گئے۔(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم،ج 4،ص10، البدایہ والنہایہ،ج 4،ص301) 
(2) سیّدُنا اُنَیْس بن مَرثَد غَنَوِی:
حضرتِ سیّدُنا اُنَیْس بن مَرثَد غَنَوِی رضی اللہ تعالٰی عنہ صَحابیِ رسول ہیں۔ انھوں نےفتحِ مکَّہ اور غزوۂ حُنَین میں حصّہ لیا۔ ان کا وصال ربیعُ الاوّل 20ھ میں ہوا۔ ان کے دادا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حلیف تھے، ان کےدادا، والداوربھائی نےبھی اسلام قبول کیا۔(اسد الغابہ،ج 1،ص204،203، الاستیعاب،ج 1،ص202)
 اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام
 (3) حضرتِ سیّدُنا ابوسلیمان داؤد طائی:
شاگردِ امامِ اعظم حضرتِ سیّدُنا ابوسلیمان داؤد طائی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت کوفہ میں ہوئی اور 8ربیعُ الاوّل 165ھ کو بغداد شریف میں وصال فرمایا۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ میں ماہر، قُرّاء کے سَرتاج، مُحَدِّثِین کے رہبر، فقیہُ الفقہاء اور امامُ الاولیاء تھے۔(تاریخ الاسلام للذہبی،ج 4،ص357،362، مرآۃ الاسرار، ص278،276) 
(4) حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافِی:
ولیِ شہیر حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافِی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 150ھ میں ”مرو“ خُراسان (ایران) میں ہوئی۔ 13ربیعُ الاوّل 227ھ کو بغداد میں وِصال فرمایا، مَزار شریف مَقْبَرَۂ قُریش (کاظمیہ شمالی بغداد) عِراق میں ہے۔ آپ عابد و زاہد، مُحِبِِّ عُلما و اولیا، بُلند دَرَجات کے مالِک اور اَکابِر اولیا سے ہیں۔ (تاریخ الاسلام للذہبی،ج5،ص540،544، الوافی بالوفیات،ج 10،ص92،91، المعارف، ص 228)
 (5) شیخ علاءُ الدِّین علی احمد صابر:
بانیِ سِلسلۂ صابریہ حضرت شیخ علاءُ الدِّین علی احمد صابر کلیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت ہرات (افغانستان) میں592 ھ کو ہوئی اور 13ربیعُ الاوّل690ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مَزار مُبارَک  کلیر شریف (ضلع سہارن پور، یوپی) ہند میں ہے۔ آپ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بھانجے، مرید، خلیفہ اور اَکابِر اولیائے ہند سے ہیں۔(فیضانِ صابر پاک، ص 41،3،1)
 (6) شاہ ابوالمَعالِی سیّد خیرُالدّین:
محبوبُ العُلَماء، اَسَدِ مِلّت و دین حضرت شاہ ابوالمَعالِی سیّد خیرُالدّین قادری کِرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ولادت 960ھ کو قصبہ شیر گڑھ (تحصیل رینالہ خوردضلع اوکاڑہ ) پاکستان میں ہوئی اور 16 ربیعُ الْاوّل 1024ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مَزار مُبارَک مَین بازار گوالمنڈی (نزد سٹی ریلوے اسٹیشن) مَرکزُالاولیاء لاہور میں مَرجَعِ خَلائق ہے۔ آپ سِلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت، عالمِ باعمل، مُصَنِّفِ کُتب، نعت گوشاعر اورامامُ الْمحدثین شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے دوست تھے۔ مُسْتَنَد کتاب ”تحفۂ قادریہ“ آپ کی تحریرکردہ ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان،ج 2،ص24،31، فتاویٰ رضویہ،ج28،ص429)
  (7) محی الدّین صدّیقی غَزْنَوِی:
غوثِ زماں حضرت پیر غلام محی الدّین صدّیقی غَزْنَوِی نقشبندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1320ھ غَزْنِی افغانستان میں ہوئی اور 12ربیع ُالاوّل 1395ھ کو وصال فرمایا، مزار  نیریاں شریف (ضلع پلندری) کشمیر میں ہے۔آپ مشہور اولیائے کرام سے ہیں۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص354،352، تذکرہ حضرت محدثِ دکن، ص460،457)
 علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام 
(8) حضرت سیّدعبدُ الغنی مقدّسی:
حافظُ الحدیث،  تَقِیُّ الدّین حضرت سیّدعبدُ الغنی مقدّسی حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 541ھ جمَّاعیل (نزد نابُ لُس، بیتُ المقدّس) فلسطین میں ہوئی۔   ربیعُ الاوّل 600ھ کو قاہرہ مِصْر میں وِصال فرمایا، تَدفِین قرافہ (جبلِ مقطم جنوبی قاہرہ) میں ہوئی۔ آپ تِلمِیذِ غوثِ اعظم، عالمِ باعمل، استاذُ العلماء، مُصنّفِ کُتبِ کثیرہ ،بارُعب اور پُروَقار شخصیت تھے۔ عُمْدَةُ الْاَحْكَامِ مِنْ كَلَامِ خَيْرِ الْاَنَام  آپ کی مشہور کتاب ہے۔(رسائل رمضان در فضائل رمضان، ص104،100)
 (9) امام شمسُ الدّین ابوالخیر محمد جَزْرِی: