Brailvi Books

فیضانِ مدینہربیع الاول ۱۴40ھ نومبر/دسمبر 2018ء
43 - 59
رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صُلْب (پیٹھ) میں ودیعت(امانت) ہے، (1) اس لئے یہود کی ایک جماعت نے یہ عہد کیا کہ جب تک حضرت عبداللہ کو قتل نہ کر دیں واپس نہیں لوٹیں گے۔ ایک دن آپ شکار کے لئے تنہا مکّہ سے باہر تشریف لائے، ان بد بختوں نے موقع غنیمت جان کر حملہ کے لئے تلواریں نیاموں سے کھینچ لیں۔ لیکن حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ  تعالٰی عنہ کی حفاظت کےلئے آسمان سے کچھ سوار نمودار ہوئے اوران بدکردار یہودیوں کو قتل کر دیا۔  اتفاق سے حضرتِ سیّدَتُنا آمِنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے والد ماجد حضرتِ وہْب بن عبد مناف  نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔(2) ان کے دل میں حضرت عبداللہ کی عظمت بیٹھ گئی اور آپ نے حضرت عبد المطلب سے اپنی نورِ نظر حضرت آمِنہ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی جو قبول کر لی گئی یوں حضرت عبداللہ کا حضرت آمنہ سے نکاح ہوگیا۔(3) وفات حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قریش کے ایک قافلِے کے ساتھ بغرضِ تجارت ملک شام گئے۔  دوران سفر بیمار ہو گئے۔ واپسی پر یہ قافلہ مدینۂ منوّرہ کے پاس سے گزرا تو حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمار ہونے کی وجہ سے مدینہ ہی میں اپنے والد عبدالمطلب کے ننھیال بنو عدی بن نجار کے ہاں ٹھہر گئے اور وہیں25 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔(4) 14سو سال بعد بھی جسم سلامت نوائے وقت اخبارمورَّخہ 21 جنوری 1978ء کے مطابق مدینۂ منوّرہ میں مسجدِ نبوي  کی توسیع کے سلسلہ میں کی جانے والی کھدائی کے دوران سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے والدِ گرامی حضرتِ سیّدُنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہما کا جسدِ مبارک جس کو دفن ہوئے چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکاتھا ، بِالکل صحیح و سالم حالت میں برآمد ہوا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی



________________________________
1 -     سیرتِ والدینِ مصطفیٰ، ص60 ملخصاً، مدارج النبوہ،ج 2،ص12 ملخصاً
2 -     معارج النبوۃ،ج 1،ص181 ملخصاً
3 -     معارج النبوۃ،ج 1،ص182 ملخصاً
4 -     المنتظم،ج 2،ص244ماخوذاً۔