فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ساتھ نکاح ہوا۔مسلمانوں کو غزوۂ بدر میں فتحِ مبین حاصل ہوئی۔ تیسرا سال کفّار کے ساتھ غزوۂ اُحُد کا معرکہ درپیش آیا۔ ایک قول کے مطابِق اسی سال شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ چوتھا سال صلوٰۃ ُالخوف کا حکم نازل ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ولادت ہوئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ سَلَمہ اور حضرتِ زینب بنتِ جَحش رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے نکاح فرمایا۔ نمازِ قصراور پردے کا حکم نازل ہوا۔ پانچواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ جُویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ غزوۂ احزاب یعنی غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی مُصطَلق واقع ہوئے۔ تَیَمُّمْ کا حکم بھی اِسی سال نازل ہوا۔چھٹا سال صلح حُدیبیہ اوربیعتِ رِضوان واقع ہوئے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام کی دعوت پرمشتمل خُطوط روانہ فرمائے۔ حبشہ کے بادشاہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اِسلام قبول کیا ۔ اسی سال آپ پرجادو کیا گیا اور اس کے توڑ کیلئے سورۂ فَلَق وسورۂ نَاس نازل ہوئیں۔ساتواں سال غزوۂ خیبر اور غزوۂ ذاتُ الرّقاع واقع ہوئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ حبیبہ،حضرتِ صَفیہ اورحضرتِ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے نکاح فرمایا۔ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی نمازِعصرکیلئے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُعا سے سورج واپس پلٹا۔آٹھواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لختِ جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ولادت ہوئی، غزوۂ حنین واقع ہوا۔مکّۂ مکرّمہ فتح ہوا۔ نواں سال شاہِ حبشہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہکا وصال ہوگیا۔ مختلف وُفود کی بارگاہِ رِسالت میں حاضِری ہوئی ۔ حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔غزوۂ تبوک واقع ہوا جس کیلئے صحابہ ٔکرام علیہمُ الرِّضوان نے دِل کھول کر مالی معاونت کی ۔ دسواں سال اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لخت جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہکا وصال ہوگیا اور اسی سال آپ نے حج ادا فرمایا جسے حُجۃُ الوداع کہا جاتا ہے۔گیارہواں سال ہجرت کے گیارہویں سال 12 ربیع الاول بروزپیر بمطابق 12جون632عیسوی کو63 سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وِصال ِظاہری ہوگیااور حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے(یعنی گھر)میں تدفین ہوئی ۔ (ماخوذ ازسیرت سیدالانبیاء، سیرت مصطفیٰ)
محبوبِ ربِّ عرْش ہے اس سبز قُبّہ میں پہلو میں جلوہ گاہ عَتِیْق و عُمَر کی ہے
سَعْدَیْن کا قِران ہے پہلوئے ماہ میں جُھرمَٹ کئے ہیں تارے تجلّی قَمَر کی ہے
(حدائقِ بخشش،ص220،219)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ذمّہ دار شعبہ فیضان حدیث،المدینۃالعلمیہ باب المدینہ کراچی