بزرگان دین سیرت
سیرت مصطفےٰ
(ولادت تا وصال مختصر)
(اعجاز نواز عطاری مدنی)
نام ونسب حُضُورنبیِّ رَحْمت شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی’’محمد‘‘ہے۔ دیگرآسمانی کتابوں میں آپ کا نام ’’احمد‘‘ مذکورہے جبکہ قراٰن واَحادیث وسیرت کی کتب میں آپ کےسینکڑوں صفاتی نام ذِکْرکئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:’’مُزَّمِّل،مُدّثّر،رَءُوْف، رَحِیم،مُصطفٰے،مجتبیٰ،مرتضیٰ‘‘ وغیرہ جبکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلۂ قریش کےایک اعلیٰ خاندان بنو ہاشم سے تعلّق رکھتے تھے،والد ماجد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمِنہ ہے،والد کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بِن ہاشِم بن عبدِمَناف بِن قُصَی بِن کِلاب بِن مُرّہ۔ والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بِن آمِنہ بنتِ وَہب بن عبدِ مَناف بِن زُہرہ بِن کِلاب بِن مُرّہ ۔کلاب بن مُرّہ پر جاکر آپ کے والدین کا نسب مِل جاتاہے۔ ولادت باسعادت آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت با سعادت12ربیع الاول بروز پیرمطابق20اپریل571ء کو ہوئی۔ اس تاریخ کو دنیا بھر میں مسلمان میلاد شریف مناتے ہیں۔پرورش آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت سے پہلے ہی والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا۔ عمر مُبَارک تقریباً 5 سال کی ہوئی تو والدہ ماجدہ بھی وصال فرماگئیں اور آپ کی پرورش دا داجان حضرت عبدُ الْمُطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی۔ دو سال کے بعد دادا جان بھی پردہ فرماگئے اور پرورش کی ذمّہ داری آپ کے چچا ابوطالِب نے سنبھالی۔حلیمہ سعدیہ کی قسمت چمک اٹھی شرفائے عرب کا دستور کہ وہ اپنے بچّوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح کے دیہاتوں میں بھیجتے تھے تاکہ دیہات کی صاف ستھری آب وہوا میں ان کی جسمانی صحت اچّھی ہو جائے اور وہ فصیح عَرَبی زَبان بھی سیکھ جائیں۔اسی دستور کے موافق والدہ ماجدہ نے بچپن میں آپ کو حضرتِ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ان کےقبیلے بھیج دیاجہاں وہ آپ کو دودھ پلاتی رہیں۔اس عرصے میں آپ سے کثیر برکات کا ظہور ہوا۔مبارک بچپن بچپن میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جُھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا، چاند آپ کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ بچّوں کی عادت کے مُطابق کبھی بھی کپڑوں میں بول و براز نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ ایک معَیّن وَقْت پر رفع حاجَت فرماتے۔ عُمْرِ مُبَارک چند سال ہوئی تو باہر نکل کر بچّوں کو کھیلتادیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہ ہوتے، لڑکے کھیلنے کے لئے بلاتے تو فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔جوانی وکاروبار آپ کی جوانی سچائی، دیانتداری،وفاداری، عہدکی پابندی، رحم وسخاوت، دوستوں سے ہمدردی، عزیزوں کی غمخواری، غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری،الغرض تمام نیک خصلتوں کا مجموعہ تھی۔حِرْص، طَمع، دَغا، فریب، جُھوٹ، شراب نوشی، ناچ گانا، لوٹ مار، چوری اور فحش گوئی وغیرہ تمام بُری عادتوں،مذموم خصلتوں اور عُیُوب ونَقائِص سے آپ کی ذاتِ گرامی پاک وصاف رہی۔ آپ کی راست بازی اور امانت ودیانت کا چرچا دُوردُور تک پہنچ چکاتھا ۔تجارت آپ کا خاندانی پیشہ تھا،13سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلی بار اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کاتجارتی سفر فرمایا جبکہ23سال کی عمر میں بغرضِ تجارت حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال لے کر اُن کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملکِ شام کا دوسرا سفراختیارکیا۔نکاح واَزواجِ مُطہَّرَات آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےچارسےزائد نکاح فرمائے جو آپ کی خصوصیت ہے۔ پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر مایااور جب تک وہ حیات رہیں دوسرا نکاح نہ فرمایا۔آپ کی گیارہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کے اَسمائے گرامی یہ ہیں:(1)حضرتِ خدیجۃُ الکبریٰ(2)حضرتِ سَودَہ (3)حضرتِ عائشہ (4) حضرتِ حَفْصہ(5)حضرتِ اُمِّ سَلَمہ (6)حضرتِ اُمِّ حبیبہ(7)حضرتِ زینب بنتِ جَحش (8)حضرتِ زینب بنتِ خُز یمہ(9) حضرت ِمیمونہ(10)حضرتِ جُویریہ(11) حضرتِ صَفِیّہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔آپ کی تین باندیوں کے نام یہ ہیں:(1)حضرتِ مارِیہ قِبْطِیَّہ (2) حضرتِ رَیحانہ (3)حضرتِ نفیسہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔اولاد آپ کے تین شہزادے:(1)حضرت قاسم(2)حضرت عبدُاللہ(طیب وطاہر) اور (3)حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہماور چارشہزادیاں ہیں:(1)حضرتِ زینب (2) حضرتِ رُقیّہ(3)حضرتِ اُمّ کُلثوم (4)حضرتِ فاطمۃُ الزّہراء رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ ۔آپ کی تمام اولاد مبارک حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی البتہ حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہحضرتِ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔رشتہ دار چارمشہور چچا: (1) حضرتِ حمزہ (2)حضرتِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما(3) ابو طالِب (4)ابولہب۔چار پھوپھیاں: (1) حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (2) عاتِکہ(3)اُمیمہ (4)اُمّ حکیم۔ عبادت وریاضت و پہلی وحی 40 سال کی عمر میں آپ مکۂ مکرمہ سے تقریباً تین میل دورغارِحرا میں تشریف لے جاتے اور رب تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔یہیں آپ پر پہلی وحی کانزول ہوا ۔اِعلانِ نبوت ودعوتِ اِسلام چالیس سال کی عمر میں ہی آپ نے اِعلانِ نُبوّت فرمایا، پھرتین سال تک پوشیدہ طورپر تبلیغِ اسلام کا فریضہ سَرانجام دیتے رہے، خواتین میں سب سے پہلے آپ کی زوجہ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،مَردوں میں سب سے پہلےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہاور بچوں میں سب سے پہلےحضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہاِسلام لائے، پھرحضرتِ عثمانِ غنی،حضرتِ زبیر بن عوام،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت طَلحہ بِن عُبَیْدُ اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمبھی دامَنِ اِسلام میں آگئے۔قریش کو دعوتِ اِسلام تین سال کے بعدآپ نے رب تعالیٰ کے حکم سے اپنے قبیلے والوں کو دعوتِ اِسلام دی، عذاب الٰہی سے ڈرایا، لیکن انہوں نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ناراض ہوکر نہ صرف چلے گئے بلکہ آپ کے خلاف اَول فَول بکنے لگے۔اِعلانیہ دعوتِ اِسلام اورکفارکا ظلم وستم اِعلانِ نبوت کے چوتھے سال آپ اعلانیہ طور پر دِینِ اِسلام کی تبلیغ فرمانے لگے، شِرک وبُت پرستی کی کھلم کھلا بُرائی بیان فرمانے لگے جس پر کفار آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے نیز آپ کو اور دیگر مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔شَعبِ ابی طالب میں محصوری آپ کے چچا حضرت حمزہ اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قبول اسلام سے دِینِ اسلام کو بہت تقویت ملی لیکن پھر بھی کفّارکی مخالفت ختم نہ ہوئی بلکہ دِن بَدِن بڑھتی ہی گئی۔ کفارنے آپ کے خاندان والوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے ایک پہاڑ کی گھاٹی تک محصورکردیا جسے ’’شعبِ ابی طالب‘‘ کہا جاتا ہے۔یہاں آپ تین سال رہے اور آپ کوبڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔اہلِ مدینہ کا قبولِ اسلام حج کے موقع پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل کو دعوتِ اِسلام دیتے اورہرسال کچھ لوگ اِسلام قبول کرلیتے۔اعلانِ نبوت کےتیرہویں سال مدینے سے آئے ہوئے 72افراد نے اِسلام قبول کیا اور واپَس جاکر اپنے یہاں دعوتِ اِسلام دینا شُروع کردی اوررفتہ رفتہ شمعِ اسلام کی روشنی مدینہ سے قُباتک گھر گھرپھیل گئی۔ہجرتِ مدینہ اعلانِ نبوت کے تیر ہویں سال سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینۂ منورہ جانے کی اجازت عطا فر مائی اور بعد میں حضرتِ سیّدنا ابو بکر صدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ساتھ خود بھی ہجرت کرکے وہاں تشریف لے گئے۔ مدنی حیاتِ طیبہ ہجرت کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منوّرہ کو گیارہ سال شرفِ قیام بخشا، اِن سالوں پیش آنے والے مختلف اہم واقعات کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے۔پہلا سال مسجدِقُبا ومسجدِنبوی کی تعمیرکی گئی،پہلا جمعہ ادا فرمایا، اَذان واِقامت کی ابتدا ہوئی۔دوسرا سال قبلہ تبدیل ہوایعنی بیتُ الْمقدّس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نَماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے،نمازِ عیدین و قربانی کا حکم دیاگیا۔ حضرت