Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
45 - 60
للذھبی،ج7،ص680تا689، کتاب الثقات لابن حبان،ج4،ص 428)
 (9) ابنِ ابِی الدّنیا ابوبکر:
حافظُ الحدیث حضرت سیّدنا امام ابنِ ابِی الدّنیا ابوبکر عبداللہ بن محمد بغدادی قرشی حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 208 ھ بغداد شریف عراق میں ہوئی۔ آپ مشہور مُحدّث، 180سے زائد کتب کے مُصنّف،محدّثین و سلاطین کے استاذ، زُہْد و تقویٰ کے پیکر اور بہترین واعظ تھے، جُمادَی الاُولٰی 281ھ میں وصال فرمایا، تدفین مقبرۂ شُونِيزيّة بغداد عراق میں ہوئی۔
 (موسوعہ امام ابن ابی الدنیا،ج1،ص 8تا10، الوافی بالوفیات،ج 17،ص281) 
(10) شیخ ابنِ فارَض عمرحَمَوی شافعی:
سلطانُ العاشقین حضرت سیّدنا شیخ ابنِ فارَض عمرحَمَوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی قاہرہ مصر میں576ھ میں پیدا ہوئے اور یہیں 2جُمادَی الاُولٰی 632ھ کو وصال فرمایا، جبلِ قَرافَہ کے دامن میں دَفْن کئے گئے۔ آپ مشہور صوفی عَرَبی شاعر، عالمِ دین، مُتَّقی و پرہیزگار اور ولیِّ کامل تھے۔ جامع اَزہر میں دَرْس دیا کرتے تھے، کچھ عرصہ قاضیُ القُضَاۃ بھی رہے۔ پندرہ سال حَرَمَینِ طیّبین میں ریاضت و عبادت میں بھی مصروف رہے۔ نظمُ السُّلوک آپ کا شاعری دیوان ہے۔ (وفیات الاعیان،ج 3،ص398،399) 
(11) ابوسعود محمد آفندی عمادی:
شیخُ الاسلام، مفسّرِِ قراٰن حضرت سیّدنا ابوسعود محمد آفندی عمادی حَنَفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 896ھ کو اسكليب (İskilip) نزد استنبول ترکی میں پیداہوئے اور 5 جُمادَي الاُول?ي  982 ھ کو وصال فرمایا۔ حضرت سیّدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزار کے قریب دَفْن کئے گئے۔ آپ جیّد عالمِ دین، فَقیہ، استاذُالعُلَماء، 21 کُتُب کے مُصنِّف، تین زبانوں ترکی، فارسی اور عَرَبی کے شاعر تھے۔ کُتُب میں ”تفسیرِ    اَبِی سَعُوْد“ مشہور ہے۔ آپ سلطنتِ عثمانیہ میں سب سے پہلے قاضی پھر مفتی اور پھر شیخُ الاسلام کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 
شذرات الذھب،ج 8،ص468،467،شيخ الاسلام ابوالسعود آفندی))
 (12) علامہ محمد بن احمد فاکِہی:
شیخُ الاسلام حضرت علامہ محمد بن احمد فاکِہی حنبلی مکّی ہندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 923ھ مکۂ مُکرّمہ میں ہوئی اور 21 جُمادَی الاُولٰی 992ھ کو احمد آباد (صوبہ گجرات) ہند میں وصال فرمایا۔ کتاب ’’شَرْحُ مُخْتَصَرِ الْاَنْوَار‘‘ یادگار ہے۔ (النور السافر، ص527، فقہائے ہند،ج1،ص665،667)
 (13) شمسُ الدّین محمد بن احمد رمْلی:
شافِعیِِ صغیر حضرت سیّدنا امام شمسُ الدّین محمد بن احمد رمْلی مصری علیہ رحمۃ اللہ القویشیخُ الاسلام، عالمِ کبیر، فقیہِ شافعی، مُجدّدِ وقت اور استاذُالعُلَماء ہیں، تصانیف میں فَتَاویٰ رَمْلِی اور نِهَايَةُ الْمُحْتَاجِ شَرْحُ الْمِنْهَاج مشہور ہیں۔ 919ھ میں رملہ صوبہ منوفیہ مِصْر میں پیدا ہوئے اور 13جُمادَی الاُولٰی 1004ھ میں وفات پائی، تدفین قاہرہ میں ہوئی۔ (معجم المؤلفین،ج3،ص61)
 (14) علّامہ محمد انوارُاللہ فاروقی:
شیخُ الاسلام حضرت علّامہ محمد انوارُاللہ فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی جیّد عالمِ دین، سلسلۂ چِشتیہ صابریہ کے شیخِ طریقت، صاحبِ تصنیف، بانیِ جامعہ نِظامیہ حیدرآباد دکّن اور عالمی شہرت یافتہ بزرگ تھے۔ اَنْوَارِ اَحْمَدِی، اِفَادَۃُ الْاِفْہَام اور مَقَاصِدُ الْاِسْلَام آپ کی مشہور کُتُب ہیں،اسلامی ریاست حیدرآباد دکّن میں آپ صدرُالصّدور اور وزیرِ مذہبی اُمور کے مَنصب پر بھی فائز رہے۔ پیدائش 1264ھ کوناندیڑ (مہاراشٹر) ہند میں ہوئی اور 29جُمادَی الاُولٰی 1336ھ کو حیدرآباد دکّن میں وفات پائی، مزار جامعہ نظامیہ میں مرجعِ اَنام ہے۔ (مرقعِ انوار، ص25، 27)
 (15) مولانا عبدُ الحامد بَدایونی:
تَلمیذِ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محسنِ ملک و مِلّت مولانا عبدُ الحامد بَدایونی قادری علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کی ولادت 1318ھ کو دہلی ہند میں ہوئی اور وصال 15 جُمادَی الاُولٰی 1390ھ کو فرمایا، تدفین جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ (موجودہ”اورنگی ٹاؤن“) ڈگری کالج نزد بنارس چورنگی باب المدینہ کراچی) میں ہوئی۔ آپ فاضلِ مدرسۂ قادریہ بدایوں، واعظِ اسلام، مہتممِ مدرسۂ شمسُ العُلوم بدایون، قومی و مِلّی راہنما، مجازِ طریقت، بانیِ جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ اور21 کُتُب و رَسائل کے مُصَنّف تھے۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت،ص202، 208، انوار علمائے اہلسنّت سندھ، ص474تا 478)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…رکن شوریٰ و نگرانِ مجلس المدینۃالعلمیہ ،باب المدینہ کراچی