Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
43 - 60
حُجَّۃُ الاِسلام حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد حامد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن
(اویس یامین عطاری مدنی)
 مختصر تعارف حُجَّۃُ الاِسلام حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد حامد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن ہند کے شہر بریلی شریف میں ربیعُ الاوّل 1292ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام ”محمد“ رکھا گیا اور پکارنے کے لئے ”حامد رضا“ تجویز فرمایا گیا،(1) جبکہ بڑے مولانا، رئیسُ العُلَماء، تاجُ الاَتقیاء اور حُجّۃُُ الاِسلام آپ کے القابات ہیں۔ آپ نے اپنے والدِ ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن کی آغوش میں تعلیم و تربیت پائی اور صرف 19سال کی عمر میں مُرَوَّجَہ عُلوم و فُنون پڑھ کر فارغُ التّحصیل ہوئے، آپ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے مرید و خلیفہ تھے اور آپ کو اپنے والدِ گرامی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے بھی خلافت و اجازت حاصل تھی۔(2) آپ ظاہری و باطنی حسن سے مالامال تھے ۔ عادات و اخلاق مُسکراتے ہوئے بات کرنا، نظریں نیچی رکھنا، لہجہ نرم و مَحَبّت بھرا ہونا، زبان پر اَکثر دُرود شریف کا وِرد جاری رہنا اور بڑوں کا اِحترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا آپ کے اخلاق کے نمایاں پہلو تھے۔(3)علمی مقام و تصانیف آپ کی علمی قابلیت کا مقام و مرتبہ آپ کی تدریسی مہارت، تصانیف، بیانات، تلامذہ اور ہم عَصْر عُلَما سے پتا چلتا ہے، عرب کے عُلَما نے عربی زبان میں آپ کی مہارت کی تعریف فرمائی، دارُالعُلوم منظرِ اسلام بریلی شریف میں آپ کے تدریس فرمانے سے داخلوں کا بڑھ جانا، مُحدّثِ اعظم پاکستان جیسے شاگرد ہونا اور فتاویٰ حامدیّہ جیسا مجموعہ فتاویٰ آپ کے بلند پایا عِلمی مقام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔(4) اسفار آپ نے اپنے والدِ ماجد امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے ساتھ سفرِِ حج، عظیم آباد پٹنہ، جبل پور وغیرہ کے سفر کئے اور اس کے علاوہ بنارس، لکھنؤ، پیلی بھیت، کلکتہ، مظفر پور، اودے پور، چتوڑ، کان پور، مرکزُ الاولیا لاہور، یو پی، سی پی اور بِہار کے شہروں میں کئی سفر فرمائے اور اپنے بیانات سے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح میں کوشاں رہے۔(5) جانشینِ اعلٰی حضرت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن نے حجۃُ الاسلام مولانا حامد رضا خان کو اپنی حیات ہی میں اپنا جانشین مقرر فرمایا اور اپنی نمازِ جنازہ پڑھانے کی وصیت فرمائی، وصال سے پہلے اپنے پاس مرید ہونے کے لئے آنے والوں کو حجۃُ الاسلام سے بیعت کرنے کی ان الفاظ میں ہدایت فرمائی:ان کی بیعت میری بیعت ہے، ان کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے، ان کا مرید میرا مرید ہے، ان سے بیعت کرو۔(6) چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی وصیت کے مطابق حجۃُ الاسلام حضرت علّامہ مولانا حامد رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان نے ہی آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔(7) وصال و نمازِ جنازہ حجۃُ الاسلام 17جُمادَی الاُولیٰ 1362ھ کو 70سال کی عمر پاکر عین نماز کی حالت میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، آپ کے خلیفۂ خاص حضرت مُحدّثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ رحمۃ اللہ الصَّمد نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، جس میں کثیر لوگوں نے شرکت کی اور آپ کو خانقاہِ رضویہ بریلی شریف میں والدِ ماجد امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دَفْن کیا گیا۔(8)
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ماہنامہ فیضان مدینہ با ب المدینہ کراچی	



________________________________
1 -    تذکرۂ جمیل، ص106ملخصاً
2 -    تذکرۂ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص483 ماخوذاً
3 -    فیضانِ اعلیٰ حضرت، ص95 ملخصاً
4 -    تذکرۂ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص494،487 ماخوذاً
5 -    تذکرۂ جمیل، ص186ماخوذاً
6 -    فتاویٰ حامدیہ، ص52 ملخصاً
7 -    حیاتِ اعلیٰ حضرت، حصّہ سوم، ص297ملخصاً،الفقیہ امرتسر،5نومبر1921، ص10ماخوذاً، تاجدار ملک سخن (امام احمد رضا خان بریلوی شخصیت، شوکت فکر و فن نعت گوئی تحقیق و تنقید) ص255تا256ملخصاً
8 -    تذکرۂ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص500 ماخوذاً۔