سے گزروں گا یا نہیں! (مستدرک ،ج 5،ص810) سخت گرمی میں روزہ ایک مرتبہ سیّدِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی ہمراہی میں محو ِ سفر تھے، گرمی کی شدّت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ اپنا ہاتھ اپنے سَر پر رکھ لیتے تھے۔ اس وقت صرف دو حضرات روزہ دار تھے ایک خود رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم، دوسرے حضرت ابنِ رواحہ(رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ)۔ (مسلم، ص438، حدیث:2631مختصراً) ہر حاجت پوری ہوگی ایک بار نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے آپ کو سفر پر روانہ فرمایا تو آپ عرض گزار ہوئے: کچھ نصیحت فرمائیے جسے میں یاد کرلوں، فرمایا: تم کل ایسے شہر میں جانے والے ہو جہاں سجدہ گزار کم ہیں لہٰذا سجدوں کی کثرت کرنا، آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے عرض کی: اور ارشاد فرمائیے، فرمایا: اللہ پاک کا ذکر کرو کہ یہ تمہاری ہر حاجت کے پورا ہونے میں مددگار ثابت ہوگا۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج 28،ص120) نماز سے مَحَبّت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ گھر سے نکلنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت پڑھتے، گھر میں داخل ہوتے تو بھی دو رکعت پڑھتے اور اس عمل کو کبھی نہیں چھوڑا۔ (زہد لِابن المبارک، ص454) غم گُساری حضرت سیّدنا زید بن اَرْقم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیّدنا عبد اللہ بن رَواحہ کی پرورش میں رہا ہوں، میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی شخص ان سےبہتر یتیم کی پرورش کرتا ہو۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج28،ص118) راہِ حق کا مسافر راہِ خدا میں لڑنے کاجذبہ ایسا تھا کہ جہاد و غزوہ کے لئے نکلنے والے پہلے شخص ہوتے اور واپسی کے وقت سب سے آخر میں پہنچتے تھے۔ (اسد الغابۃ،ج3،ص238) شہادت سن 8ہجری جُمادَی الاُولیٰ میں جنگِ موتہ کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ رُومی افواج کے مقابلے میں 3000 مسلمانوں کی مختصر سی فوج نے اپنی جان پر کھیل کر ایسی معرکہ آرائی کی کہ تاریخ اس کی مثال بیان کرنے سے قاصر ہے، جنگ سے پہلے آپ کے جذبات یہ تھے: اے لوگو! تم شہید ہونے کے لئے نکلے ہو اور اب اسے ناپسند کررہے ہو، ہم دشمن کی کثرت اور طاقت دیکھ کر جنگ نہیں کرتے، ہم اُس دین کی خاطر لڑتے ہیں جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت عطا فرمائی،اب دو اچّھی باتوں میں سے صرف ایک ہوگی فتح یا شہادت!جنگ شروع ہوئی تو کئی صحابۂ کرام مرتبۂ شہادت پر فائز ہوگئے حضرت سیّدنا زید بن حارثہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیّدنا جعفر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے پرچمِ اسلام تھام لیا مگر جلد ہی جسم پر موجود لباس خون میں ڈوب گیا اس وقت حضرت سیّدنا عبد اللہ بن رَوَاحہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ لشکر میں دوسری جانب تھے ۔ تین دن سے بھوکے تھے، چچّا زاد بھائی نے گوشت سے بھری ہوئی ہڈّی پیش کی تو ایک لُقْمہ ہی کھایا تھا کہ حضرت سیّدنا جعفر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر آگئی، بےتاب ہوکر ہڈّی چھوڑ دی اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے اے عبد اللہ! ابھی تک تیرے پاس دنیاوی شے ہے، فوراً پرچم ِاسلام ہاتھ میں لیا اور لشکر کی کمان سنبھال کر بےجگری سے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے، لڑتے لڑتے انگلی کٹ گئی تو فرمایا: ابھی انگلی کٹی ہے اور یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے، اے نفس! آگے بڑھ ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی۔ پھر انتہائی دلیری اور جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے بالآخر زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر گر پڑے اور شربت ِشہادت سے سیراب ہوگئے۔(سیرت ابن ہشام،ص456تا 459۔تاریخ ابن عساکر،ج28،ص126)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…مدرِّس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی