Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
39 - 60
اسلامی بہنوں کے شرعی مسائل
شرعی عُذرکی حالت میں عورت کاقرآن پڑھناپڑھاناکیسا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عُذر (حیض و نفاس) کی حالت میں قرآن پڑھنا اور پڑھانا کیسا ؟ کیا معلّمہ بھی نہیں پڑھا سکتی؟ اگر پڑھا سکتی ہے تو کیا طریقہ ہے؟ توڑ توڑ کے کیسے پڑھائے؟ اور مدرسۃُ المدینہ آن لائن میں  یا گھروں میں پڑھانے والیوں کو بھی کیا اجازت ہے؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
شرعی عذر (حیض و نفاس) کی حالت میں قرآن پاک پڑھنا جائز نہیں ہے، ہاں معلّمہ کے لئے مخصوص طریقے سے قرآن پڑھانے کی اجازت ہے چاہے وہ گھر میں پڑھائے یا کسی ادارے وغیرہ میں پڑھائے۔مخصوص طریقے سے مراد یہ ہے کہ معلّمہ دو کلمے ایک سانس میں ادا نہ کرے بلکہ ایک کلمہ پڑھا کر سانس توڑ دے پھر دوسرا کلمہ  پڑھائے اور پڑھتے وقت یہ نیّت  کرے کہ میں قرآن  نہیں پڑھ رہی  بلکہ مثلاً یوں نیّت کرے کہ  عربی زبان کے الفاظ ادا کر رہی ہوں،اور جو ایک ایک حرف کر کے ہجے کروائے جاتے ہیں اس میں اصلاً کوئی حرج نہیں بلکہ  ایک کلمے کے مختلف حروف ایک سانس میں بھی پڑھ سکتے ہیں، ہاں ایک کلمے سے زیادہ ایک سانس میں پڑھنے کی اجازت نہیں۔
نوٹ: واضح رہے کہ وہ آیات جن میں دعا یا حمد و ثناء کے معنی پائے جاتے ہیں ان کو شرعی عذر کی حالت میں  دعا و حمد و ثناء کی نیت سے پڑھنا ہر عورت کے لئے جائز ہے چاہے وہ معلّمہ ہو یا نہ ہو۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ  وَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مُجِیْب						مُصَدِّق
محمد ساجد عطاری مدنی		                  عبدہ المذنبفضیل رضا عطاری عفا عنہ الباری
شوہرکےانتقال کےبعدحاملہ عورت کی عدّت کب تک؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے پوچھنا یہ ہے کہ میری عدّت کب تک ہوگی جبکہ میں حمل سے ہوں اور عدّت کے دوران ڈاکٹر کو چیک کرانے کے لئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
شوہر کی وفات کی صورت میں عورت اگر حامِلہ ہو تو اس کی عدت وضعِ حَمل یعنی بچّہ پیدا ہونے تک ہے۔ لہٰذا آپ کی عدت وضعِ حمل تک ہے، جب بچّےکی پیدائش ہوجائے توآپ کی عدت ختم ہو جائے گی۔ نیز دورانِ عدّت عورت کو بلاضرورتِ شرعیہ گھر سے باہر نکلنا حرام ہے لہٰذا عدّت کے دوران عورت اگر بیمار ہو جائے اور ڈاکٹر کو گھر بلا کر چیک کرانا ممکن ہو تو باہر لے جانا ناجائز ہے۔ ہاں ڈاکٹر گھر آکر چیک نہیں کرتا یا ضرورت ایسی ہے کہ گھر میں پوری نہیں ہو سکتی تو پردے کا خیال رکھتے ہوئے ڈاکٹر کو چیک کرانے کے لئے لیجانا جائز ہے کہ یہ نکلنا ضرورتِ شرعی کی بنا پر ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ  وَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مُجِیْب					مُصَدِّق
ابومحمدسرفرازاخترعطاری 			عبدہ المذنبفضیل رضا عطاری عفا عنہ الباری