Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
38 - 60
کپڑوں کی الماری
(ام حسن عطاریہ)
صَفائی سُتھرائی کو اسلام میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے، گھر میں اس کا انتظام عُموماً اسلامی بہنوں کے سِپُرد ہوتا ہے اور صفائی ستھرائی کے بعد چیزوں کو ان کی جگہوں پر مناسب ترتیب اور طریقے سے رکھنا اس گھر کی اسلامی بہنوں کے سلیقہ شعار ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ آج کل کپڑے رکھنے کے لئے اکثر اَلماری (Wardrobe) استعمال کی جاتی ہے۔ کئی اسلامی بہنیں گھر کی دیگر اشیاء کو تو سلیقے سے رکھ لیتی ہیں لیکن کپڑوں کی الماری کے معاملے میں اکثر پریشان دکھائی دیتی ہیں، اس  حوالے سےچند فائدہ مند باتیں ملاحَظَہ ہوں: ہر چیز ترتیب سے رکھئے(1)سردی، گرمی اور خاص مواقع و تقریبات پر پہنے جانےوالے ملبوسات الگ الگ خانے (Cabinet) میں رکھئے (2)سردیوں میں گرمی کےاور گرمیوں میں سردی کے کپڑے  سلیقے سے تہہ کر کے الگ بیگ یا گتے کے ڈبے میں محفوظ کردیں تاکہ ہر بار اَلماری کھولنے پر وہ باہَر نہ گِریں (3)الماری کے اندر کپڑوں کے علاوہ جیولری، سینڈل، پرس، بیگ اور دیگر ضَروری اشیا بھی رکھی جاتی ہیں۔ ان تمام اشیا کے لئے ایک ایک خانہ، دراز یا سائیڈ مخصوص کرلیں (4) جب کبھی کسی چیز کو نکالیں تو دوبارہ اُسی جگہ پر واپس رکھیں۔ اس طرح ہر چیز کے لئے جگہ مخصوص کرنے سے اسے ڈھونڈنے میں مَشقّت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ کپڑےخراب ہونے سے بچائیے (1)کپڑوں کے ساتھ ”(Mothball)“ یعنی کافور کی ایک ایک گولی بھی کاغذ میں لپیٹ کر رکھ دیجئے، اس طرح کپڑے کیڑے مکوڑوں سے اور لمبے عرصے تک پڑےرہنے پر بدبودار ہونے سے محفوظ رہیں گے (2)الماری(Wardrobe)  کے کناروں میں نیم کے پتّے پِیس کر یا کُوٹ کر تھوڑے تھوڑے پھیلا دیں، اس عمل سے آپ کے کم استعمال ہونے والے کپڑے محفوظ رہیں گےاورالماری کی لکڑی کی بھی حفاظت رہے گی۔ الماری کو خوشبودار رکھنے کا طریقہ پرفیوم اور بےرَنگ عِطْر کی خالی بوتل کو پھینکنے کے بجائے اس کا ڈھکّن ہٹا کر الماری (Wardrobe) کے کونوں میں رکھ دیں،الماری اور کپڑوں سے بھینی بھینی خوشبو آئے گی۔ الماری کی حفاظت اور خوبصورتی (1)الماری کو ہر ماہ صاف کرنے کا اہتمام کیجئے (2)کچھ افراد خاص طور پر بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ الماری کے اندر باہَر بے جا اسٹیکرز اور تصاویر چپکاتے رہتے ہیں جو کہ بعد میں بُرے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اسٹیکرز اور تصاویر کے گوند سے الماری کی سطح اور رَنگ بھی خراب ہوجاتا ہے (3)حد سے زیادہ بوجھ بھی الماریوں کی ساخت و بناوٹ کو متأثر کرتا ہے، اس کے اندرونی خانوں میں بھی سامان اتنا رکھیں جتنی گنجائش ہو(4)جو کپڑے آپ کے استعمال میں نہ رہیں انہیں سالہا سال الماری میں بے مقصد سنبھالنے کے بجائے کسی غریب مسلمان کو دے کر اس کی دعائیں لیجئے (5)بعض لوگ الماری کے اوپر سامان کے ڈبے یہاں تک کہ بڑے بڑے صندوق بھی چڑھا دیتے  ہیں جو نامناسب اور بے ڈھنگےمعلوم ہوتےہیں۔ اس سے الماری کی اوپری سطح خراب ہوتی ہے اور اس کی ساخت بِگڑ جاتی ہے اور اسی بوجھ کی وجہ سے الماری کے دروازوں کی بناوٹ بھی بگڑتی ہے جس کی وجہ سے دروازوں کو کھولنے اور بند کرنے میں پریشانی ہوتی ہے (6)الماری کے اوپر سامان رکھنے کی وجہ سے آپ اپنی الماری کی صفائی ستھرائی بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتے اور دُھول، جالے اور مِٹّی جمع ہوکر کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانا بنتی جاتی ہے۔ جس کے اثرات آپ کی چیزوں، کپڑوں اور الماری کی رنگت پر بھی نمایاں ہوتے رہتے ہیں۔