Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
36 - 60
بزرگوں کے پیشے
حضرت عتبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ذریعۂ معاش
مختصرتعارُف حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلام علیہ رحمۃ اللہ السَّلام کا پورا نام عُتبہ بن اَبان بَصَری ہے۔توبہ سے پہلے آپ فاسق و فاجراورشراب کے رَسیاتھے ،خوش قسمتی سے ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حسن بَصَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی مجلس میں حاضر ہوئے، ان کے بیان سے متأثّرہوکرتوبہ کی اورراہِ زُہدوتقویٰ کے مسافربن گئے۔آپ ساحلوں،صَحراؤں اور قبرِستانوں میں رہا کرتے،صرف جمعہ کے دن شہر ِبَصرہ آتے تھے، آپ صائمُ الدَّہْر(یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے والے) بزرگ تھے۔
 فکرِ آخرت میں غمگین آپ فکرِ آخِرت میں اکثر غمگین رہتے تھے یہاں تک کہ  آپ کو حضرت حسن بَصَری  علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی مانِند قرار دیا جاتا تھا۔
(سیر اعلام النبلاء،ج7،ص51،52،تاریخ الاسلام للذہبی،ج 10،ص347)
آمدنی(Income) کا ذریعہ حضرت سیِّدُنا عُتبَۃُ الْغُلام علیہ رحمۃ اللہ السَّلام درختوں کے پتّوں کی ٹوکری (Basket) بناتے تھے،چنانچہ حضرت ابوعُمر بصری علیہ رحمۃ اللہ القَویبیان کرتے  ہیں کہ حضرت عُتْبۃُ الْغلام علیہ رحمۃ اللہ السَّلام کا سرمایہ ایک فَلْس (درہم کے چھٹے حصّے کے برابر سکّہ) تھا۔ آپ اس سے  کھجور و ناریل وغیرہ کے پتّے خریدتے اور ان سے ٹوکری بنا کر اُسے تین فلس کی بیچ دیتے پھر ایک فلس صَدَقہ کردیتے، ایک فلس سرمائے (Capital) کے طور پر رکھ لیتے اور ایک فلس سے اِفطاری کا سامان خرید لیتے۔(حلیۃ الاولیاء،ج 6،ص248) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کے نیک بندے دین پر مدد حاصل کرنے کے لئے دنیا سے حسبِ ضرورت لیتے اور بچا ہوا مال راہِ خدا میں خرچ کردیتے تھے۔بزرگانِ دین  رحمھم اللہ المُبِین راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لئے مال سے مَحبت رکھتے تھےجبکہ ہمارا معاملہ اس کے برعکس (Opposite) ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہمیں مال کی کتنی فکر رہتی ہے اور کیوں رہتی ہے؟ اللہ پاک ہمیں مال کی حِرْص سے بچاکر قَناعت کی دولت سےمالا مال فرمائے۔
 بیکار رہنے پر اظہارِ ناپسندیدگی حضرت سیِّدُنا عُتبۃُ الغلام علیہ رحمۃ اللہ السَّلام فرماتے ہیں:مجھے وہ شخص  پسند نہیں جو کوئی پیشہ اختیار نہ کرے۔(سیر اعلام النبلاء،ج7،ص52)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس فرمان میں ان لوگوں کے لئے درس ہے جو بے کار پڑے رہتے ہیں اور کوئی ملازَمت یا پیشہ  اختیار نہیں کرتے حالانکہ رزقِ حلال کے لئے کوشش کرنے والا اللہ پاک کو محبوب ہے، حدیث شریف میں ہے: حلال کی طلب کرنا جہاد ہے اور اللہ  پاک  پیشہ اختیارکرنے والے بندے کو پسند فرماتا ہے۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج7،ص449)
اللہ پاک ہمیں اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے رزقِ حلال کمانے کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی