Brailvi Books

ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولیٰ1440
34 - 60
امامِ اہلِ سنّت سیّدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں:وکل شرط فاسد فھو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر“ جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبراً اس بیع کو فسخ کرائے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج17،ص160)
اس کا حل یہ ہے کہ آپ ایک مدت طے کرکے مقررہ قیمت پر اپنے ماموں سے وہ کپڑا خریدیں مثلاً اگر ان کو وہ کپڑا 5ہزار میں پڑا ہے تو آپ ان سے ایک ماہ کے ادھار پر 5ہزار 5سو کا خرید لیں یا 6ہزار کا خرید لیں، قیمت جو بھی طے ہو وہ معین ہواور ساتھ ہی پیسے دینے کی تاریخ بھی طے کرلیں تو آپ کا خریدنا ’’جائز‘‘ ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا کیسا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا جائز ہے؟  سائل:محمدمحسن عطّاری(مرکز الاولیاء،لاہور) 
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: جب کوئی مانعِ شرعی (جیسا کہ جھوٹ اور دھوکا وغیرہ) نہ ہو تو ایک روپے کی چیز باہم رضا مندی سے دس روپے میں بیچنا جائز ہے کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن سے سوال ہوا کہ’’چار پیسے کی چیز کا دُگنی یا تین گنی قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے؟‘‘ تو جواباً ارشاد فرمایا: ’’(ماقبل اور یہ)دونوں باتیں جائز ہیں جبکہ جھوٹ نہ بولے فریب نہ کرے مثلاً کہا خرچ وغیرہ ملا کر مجھے سوا چار میں پڑی ہے اور پڑی تھی پونے چار کو یا خرید وغیرہ ٹھیک بتائے مگر مال بدل دیا،یہ دھوکا ہے یہ صورتیں حرام ہیں ورنہ چیزوں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،ج17،ص139)
لیکن مناسب یہ ہے کہ لوگ جو نفع عمومی طور پر لیتے ہیں وہی لیاجائےکیونکہ جو زیادہ نفع لیتاہے لوگ اس سے کم خریداری کرتے ہیں اور باتیں بھی بناتے ہیں۔ 
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…دارالافتاءاہل سنت ،مرکزالاولیاءلاہور