باتوں سے خوشبو آئے
اللہ کی مَحبت کا مطلب
ارشادِ حضرت سیِّدُنا قاضی عِیاض مالِکی علیہ رحمۃ اللہ القوی:اللہ پاک کی مَحبت کا مطلب یہ ہے کہ اِستِقامت کے ساتھ اس کی اِطاعت کی جائے،جن کاموں کے کرنے کا اس نے حکم دیا انہیں کرنے اور جن سے بچنے کا حکم دیا ان سے بچنے کو اپنے اوپر لازِم کرلیا جائے۔ (عمدۃ القاری،ج1،ص228)
وہ طریقت کے لائق نہیں
ارشاد ِ قُطبِ مدینہ حضرت ِعلامہ ضِیاءُ الدّین احمدمَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی : جو شریعت کا پابند نہیں وہ طریقت کے لائق نہیں۔ (سیدی قطب مدینہ،ص 18)
علم کیا ہے؟
ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی:عِلْم وہ نہیں جو یادکیا گیا بلکہ علم وہ ہے جونفع دے۔(حلیۃالاولیاء،ج9،ص131،رقم:13366)
علم کی دولت پانے کانسخہ
ارشادِ حضرتسیِّدُنا بِشْر بن حارث علیہ رحمۃ اللہ الوارث: اگرتم علم کی دولت حاصل کرنا چاہتے ہو تو گناہ چھوڑ دو۔(الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص 90)
احمد رضا کا تازہ گُلستاں ہے آج بھی
شادی کی رسموں کے لئے سوال کرنا حرام ہے
رُسومِ شادی کے لئے سوال حرام کہ نکاح شرع میں اِیجاب وقَبول کانام ہے جس کےلئے ایک پیسہ کی بھی ضرورت شرعاً نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص620)
دل کی زینت قراٰنِ کریم سے ہے
جیسے گھروں کی زینت ان کے رہنے والوں اور عمدہ آرائشوں سے ہوتی ہے اسی طرح خانۂ دل کی زینت قراٰنِ مجید سے ہے۔ جسے قراٰن یاد ہے اس کا دل آباد ہے ورنہ ویرانہ و برباد۔ (فتاویٰ رضویہ،ج23،ص645)
دکھلاوے کے لئے نماز پڑھنے والا
جس طرح بے نماز فاسق و فاجر و مُرتَکِبِِ کَبائِر(کبیرہ گناہ کرنے والا) ہے یونہی بِعَینہ رِیا ءسے نماز پڑھنے والاانہیں مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج23،ص624)
عطار کا چمن کتنا پیارا چمن
امام و مؤذن صاحبان کی خیر خواہی کیجئے
مساجد کے امام صاحبان و مؤذنین سفید پَوش ہوتے ہیں اور ان کی تنخواہیں عُموماً کم ہوتی ہیں لہٰذا ہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق ان کی مالی خدمت کرنی چاہئے، اس سے اِنْ شَآءَ اللہ ان کا دل خوش ہوگا۔(انہیں مُصلّے، مٹھائی کے ڈبّے اور عِطر وغیرہ کے خوبصورت پیکٹ دینے کے بجائے ”رقم“ پیش کرنی چاہئے تاکہ وہ ضرورتاً دوا، راشن اور لباس وغیرہ کی ترکیب فرما سکیں)(مدنی مذاکرہ، 6ربیع الاول1439ھ)
عاجزی میں رِیاکاری
عاجزی کے الفاظ بولنے میں کہیں رِیاکاری نہ ہوجائے لہٰذا جب تک دلی کیفیت نہ ہو تو زبان سے اپنے آپ کو ”حقیر، فقیر“ نہیں کہنا چاہئے۔(مدنی مذاکرہ، 24ربیع الآخر1439ھ)
روشن مستقبل
دینی تعلیم حاصل کرنے والے کا مُستقبِل (یعنی قبر و آخرت) روشن و تابناک ہے۔(مدنی مذاکرہ،10محرم الحرام1436ھ)