نیک بننے کانسخہ
تسبیح فاطمہ
(ابو محمد طاہر عطاری)
خاتونِ جنّت حضرتِ سیّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراءرضی اللہ تعالٰی عنہا کے مبارک ہاتھوں پر چکّی (پر آٹا پیسنے) کی وجہ سے چھالے پَڑ گئے تھے جو کہ دَرْد کا باعث بنتےتھے، ایک بار آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا خادم لینے کی خاطربارگاہِ رسالت میں گئیں مگرحضور نبیِّ پاک صاحبِ لولاکصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات نہ ہو سکی البتّہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرضی اللہ تعالٰی عنہا سے ملاقات ہو گئی اور انہیں اپنا مقصد بتایا، جب نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم گھرتشریف لائے تو حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے آنے کی خبر دی۔ حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی لختِ جِگر کے ہاں تشریف لائےاورارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے سوال سے بہتر ہو!جب تم سونے کے لئے لیٹو تو33مرتبہ سُبْحٰنَاللہ، 33مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور 34مرتبہ اَللہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو، یہ تمہارے لئےخادم سے بہتر ہے۔(بخاری،ج2،ص536،حدیث: 3705 مفہوماً)
مذکورہ حدیثِ مبارَکہ میں بیان کردہ تسبیح کے خادم سے بہتر ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت علّامہ بَدْرُالدّین محمود عَیْنِی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی فرماتے ہیں : یا تواللہ پاک اس تسبیح پڑھنے والے کو ایسی قوّت عطا فرما دیتا ہے جس کے بعد اس کے لئے مشکل کام آسان ہوجا تے ہیں اور اسے خادم کی حاجت نہیں رہتی یا پھر اس تسبیح کا اُخْرَوِی ثواب دنیا میں خادم کی خدمت کے نفع سے زیادہ بہتر ہے۔
(عمد ۃ القاری،ج14،ص374،تحت الحدیث:5361ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مبارَکہ میں حضورنبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو تسبیح ارشاد فرمائی اسے تسبیحِ فاطمہ کہا جاتا ہے۔ اس کی برکات و ثواب کو مزید اجاگر کرنے کیلئے ایک فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمملاحظہ کیجئے چنانچہ نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان پرہمیشگی اختیا ر کرےگا جنّت میں داخل ہوگا اوروہ دونوں بہت ہی آسان ہیں جبکہ ان پر عمل کرنے والے قلیل ہیں، ہرنماز کے بعد سُبْحٰنَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور اَللہُ اَکْبَر دس دس مرتبہ کہے یہ زبان پر 150 ہیں اور میزان میں 1500 ہیں اور جب وہ اپنے بستر پر لیٹنےلگے تو اَللہُ اَکْبَر 34 مرتبہ، سُبْحٰنَ اللہ33مرتبہ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 33 مرتبہ پڑھ لے یہ زبان پر100اور میزان ميں 1000 ہیں۔(التر غیب والترہیب ،ج 1،ص233،رقم:5ملتقطاً)
شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مسلمانوں کو نیک بننے کانُسخہ بنام ”مدنی انعامات“ عطافرمایاہے جس کا ایک مَدَنی انعام یہ بھی ہے:” کیاآج آپ نےنمازِ پنجگانہ کےبعدنیز سوتےوقت کم ازکم ایک ایک بارآیۃُ الکُرسی، سورۃُ الاخلاصاورتسبیحِ فاطِمہرضی اللہ تعالٰی عنہا پڑھی؟ نیزرات میں سورۃُ الملک پڑھ یاسُن لی؟
اگر ہم اپنے اوقات کو غیرضروری بات چیت اورسوشل میڈیا وغیرہ پر فُضول گزارنے کے بجائےرِضائے الٰہی اور ثواب پانے کیلئے دیگر نیک اعمال کے ساتھ ساتھ اپنی زبان پر اِن مبارَک کلمات کا وِرْد رکھنے کی عادت بنالیں تو اللہ پاک کی رَحْمت سے روزانہ ہمیں دُنیوی فوائد کے علاوہ کثیر ثوابِ آخرت کا خزانہ بھی حاصل ہو سکتاہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…مجلس مدنی انعامات،باب المدینہ کراچی